ایمان افروز تحری

”جو لوگ جمعہ کی نماز نہیں پڑھتے ان کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ ایمان افروز تحریر“
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین دن جب

سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اس دن اللہ نے آدم کو پیدا کیا۔ اسی دن جنت میں ان کو داخل کیا اور اسی دن ان کو جنت سے نکالا گیا۔ (مسلم أبوداود، ترمذی ونسائی) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے محروم رکھا۔ یہود کے لیے سنیچر کادن تھا اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا۔ چنانچہ وہ قیامت تک ہمارے پیرو ہوں گے دنیا میں ہم سب کے بعد اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہمارا فیصلہ سبھی لوگوں سے پہلے ہوگا۔ (مسلم)جمعہ کے دن کی سب سے اہم خصوصیت جمعہ کی نماز ہے۔ کیونکہ یہ بہ اعتبار قدر سب سے اہم، بہ اعتبار فرض سب سے مؤکد اور بہ اعتبار ثواب سب سے زیادہ ثواب والی نماز ہے۔ اسلام نے اسے بہت قابل اعتناء سمجھا ہے اور اس کا پاس ولحاظ رکھنے پر بہت زور ڈالا ہے۔ جمعہ کے لیے اسلام نے غسل کرنے، پاک صاف رہنے، خوشبو لگانے، بدبو دار چیزوں سے دور رہنے اور سب سے خوبصورت لباس اور سب سے مناسب ہیئت وحالت میں جمعہ کی نماز کے لیے گھر سے نکلنے کی ترغیب دی ہے۔ اسی طرح جمعہ کے لیے سویرے نکلنے، امام سے قریب رہنے اور وعظ ونصیحت کو سننے کے لیے خاطر جمع رکھنے کی تاکید کی ہے۔چنانچہ متفق علیہ روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرے۔ پھر پہلے ہی مرحلہ میں مسجد کےلیے چلے تو اس نے گویا ایک اونٹ قربان کیا۔اور ابوداود وحاکم نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جمعہ میں ہر وقت حاضر رہو اور امام سے قریب رہو۔ کیوں کہ آدمی دور ہوتے ہوئے جنت میں داخل ہوکر بھی پیچھے ہی رہ جاتا ہے۔مسجد پہنچ جائے تو نماز، ذکر واذکار اور تلاوت قرآن جیسی عبادت واطاعت میں لگارہے۔ یہاں تک کہ امام وخطیب اپنی جگہ سے نکل کر مسجد چلاآئے۔
پھر جب امام پہنچ جائے تو گوش بر آواز ہو اور خطبہ سنے۔ پھر خشوع وخضوع اور سکون واطمینان اور خالص نیت سے کی جا رہی تلاوت قرآن پر غور وفکر کرے اور نماز ادا کرے۔ اس کے بعد جب فرض نماز سے فارغ ہو تو بعد نماز مشروع ثابت ذکر واذکار میں لگ جائے۔ پھر مسنون یہی ہے کہ مسجد میں چار رکعت نفل نماز پڑھے یا دو رکعت اپنے گھر میں پڑھے۔ اور گھر میں ہی ان رکعتوں کو جاکر پڑھنا عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں افضل ہے۔ جیسا کہ صحیحین میں ایسا ثابت ہے۔ چنانچہ جو شخص ایسا کرنے کا مشتاق ہو اور خالص نیت کے ساتھ اس کو ادا کرے تو وہ اس مبارک دن کی فضیلت پانے اور منعم کریم (اللہ) کے ثواب حاصل کرنے کا لائق وسزا وار ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو اچھی طرح وضو کرکے جمعہ کے لیے مسجد میں آئے۔ پھر خطبہ سنے اور خاموش رہے۔تو اس کے آئندہ جمعہ تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، نیز مزید تین دن کے ۔ (مسلم)جمعہ کے ثواب کے فوت ہونے یا ثواب کم ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب جمعہ کے لیے مسجد پہنچنے میں دیر کرنا ہے۔ اسی طرح مصلیوں کی گردنیں پھاند کر اگلی صف میں جانا ہے۔ جیسا کہ جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے آپ نے اس پرنکیر کرتے ہوئے فرمایا: بیٹھ جا، تو نے لوگوں کو تکلیف دی ہے۔ جو ایسا کرتا ہے اس کے تئیں یہ خدشہ ہے کہ وہ اس فرمان عز وجل کے عموم میں داخل وشامل ہو۔ “اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔”اسی طرح ذکرالہیٰ یا تلاوت قرآن اتنی بلند آواز سے کرنا کہ دوسرے لوگوں کی نمازوں میں خلل پیدا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس سے منع فرمایا ہے۔ جس وقت انہوں نے قرات وتلاوت میں اپنی آواز بلند کی: “لا یجھر بعضکم علی بعض بالقرآن” “تم میں کوئی کسی پر قرآن کی تلاوت میں آواز بلند نہ کرے۔”اور اس سے بھی خراب بات تو یہ ہے کہ دنیوی امور ومعاملات میں دوسرے کے ساتھ گفتگو کرکے تشویش اور الجھاؤ پیدا کرے۔ خصوصاً دوران خطبہ یہ حرمان نصیبی اور بصیرت کی کمی ہے کہ آدمی گفتگو یا کنکری وغیرہ سے کھیل کود کر خطبہ سے بےتوجہی برتے۔ جس کے سبب جمعہ کا ثواب وفضیلت فوت ہوجائے۔ اس پر تنبیہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: “من مس الحصی فقد لغی” “جس نے دوران خطبہ کنکری کو چھوا اس نے لغو کام کیا۔” (مسلم)حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم نے اپنے بغل والے ساتھی سے چپ رہو کہا تو تم نے لغو کیا۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.