اگر بہت سخت پریشان ہو تو یہ پڑھو

اگر بہت سخت پریشان ہو تو یہ پڑھو
یہ دعااللہ کریم نے اپنے محبوب نبی صلی الله علیه وسلم کو حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے سکھائی تھی اور سب سے پہلے سرکار دوجہاں صلی الله علیه وسلم نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو عطا کی تھی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں اس دعا

کا ذکر موجود ہے۔ روز آپؓ نے شدید فقر و فاقہ کی وجہ سے رسول کریم صلی الله علیه وسلم سے عرض کیا کہ ایک ماہ ہو گیا گھر میں چولہا جلانے کی نوبت تک نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو تو پانچ بکریاں دے دوں اور چاہو تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی ایک دعا سکھائی ہے بتا دوں۔ یہ دعا پڑھو۔ یَااَوَّلَ الاَوَّلِینَ یَااٰخِرَ الاٰخِرِینَ‘ ذَاالقُوَّةِ المَتِینِ‘ وَ یَارَاحِمَ المَسَاکِینَ‘ وَیَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ۔ بی کریم صلی الله علیه وسلم پر درود پڑھنا آپ صلی الله علیه وسلم سے محبت کا اظہار اور ایمان کی نشانی ہے۔درود پڑھنے کے متعدد فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔سیدنا ابو ہریرہ ﷜فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا : ’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ ( مسلم : ۴۰۸) ایک دوسری روایت میں نبی کریم صلی الله علیه وسلمنے فرمایا:’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔‘‘ (صحیح الجامع : ۶۳۵۹) سیدنا ابی بن کعب﷜فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی الله علیه وسلم سے کہا:’’اے اللہ کے رسول صلی الله علیه وسلم! میں آپ پر (دعا میں) زیادہ درود پڑھتا ہوں ،تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں آپ پر کتنا درود پڑھوں ؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا : جتنا چاہو۔ میں نے کہا : چوتھا حصہ؟ آپ صلی الله علیه وسلمنے فرمایا :جتنا چاہواور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : آدھا حصہ ؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ ڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : دو تہائی ؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا : چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا : میں آپ پر درود ہی پڑھتا رہوں تو ؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا : تب تمھیں تمھاری پریشانی سے بچا لیا جائے گا اور تمھارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ایک روایت ہے میں ہے: تب تمھیں اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت کی پریشانیوں سے بچا لے گا۔‘‘ (ترمذی : ۲۴۵۷ ،وصححہ الالبانی) لیکن درود وہ قابل قبول ہے جو نبی کریم صلی الله علیه وسلم سے ثابت ہو اور آپ صلی الله علیه وسلم نے وہ صحابہ کرام ﷢کو سکھلایا ہو۔ درود لکھی ،درود تنجینا،درود ہزاری اور درود تاج جیسےآج کل کے من گھڑت درودوں کی اللہ تعالی ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ،کیونکہ یہ اس کے حبیب سےثابت نہیں———میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟ ( یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لو گوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں ، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو ۔ اللهم صل على محمد ، وعلى آل محمد ، كما صليت على آل إبراهيم ، إنك حميد مجيد ، اللهم بارك على محمد ، وعلى آل محمد ، كما باركت على آل إبراهيم ، إنك حميد مجيد ” اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ اے اللہ ! محمد پر اور آل محمد پر بر کت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.