اوقات کار تبدیل کر دیئے گئے ہیں

”کیا نئے نظام ملازمت میں کارکنوں کے اوقات کار تبدیل کر دیئے گئے ہیں؟“
سعودی وزارت افرادی قوت نے سوشل میڈیا پر گردش خبروں کے حوالے سے وضاحت جاری کر دی،اوقات کار میں تبدیلی رمضان المبارک میں کی جائے گی

ریاض(22مارچ2021ء) سعودی عرب میں پُرانا نظام کفالت بدل کر نیا ملازمت نظام رائج کیا گیا ہے ۔ اس نئے نظام میں کئی ایسی ترامیم ہیں جنہیں سمجھنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ نئے نظام ملازمت میں کارکنوں کے اوقات کار بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی وضاحت آ گئی ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ موجودہ ترمیم شدہ ملازمت کے نظام میں کارکنوں کے اوقات کار اور ہفتہ وارتعطیل کے حوالے سے کسی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔اُردو نیوز کے مطابق وزارت کا کہنا ہے کہ یہ آجر پر منحصر ہے کہ کارکنوں کی ہفتہ وار تعطیل اور یومیہ کام کے گھنٹے مقرر کرے۔تاہم رمضان میں کام کے دورانیہ کے حوالے سے نشاندہی کی گئی ہے جس میں اوقات کار میں کمی کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ملازمت کے نئے قانون کا بنیادی ہدف مقامی لیبر مارکیٹ میں تسلسل اور بہتری لانا ہے جس سے نجی شعبے میں ترقی کیمواقع پیدا ہوں گے اور کارکنوں کو بھی بہتر ماحول میسرآئے گا جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ وزارت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ وزارت کا ہدف نجی سیکٹر میں محنت قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔وزارت کا کہنا تھا کہ جو ادارے ’خودتشخیصی‘ کے مقرر کردہ اصولوں پر عمل نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔واضح رہے وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود آبادی کی جانب سے مملکت میں بڑے اور متوسط درجے کے اداروں میں ’خودتشخیصی‘ نظام کا لازمی قرار دیا ہے جسے وزارت کے پورٹل میں رجسٹرکرانا ہوتا ہے جس کے ذریعے اداروں کی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے۔ خودتشخیصی سسٹم کے تحت اداروں کو اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں درست کرنے کا موقع ملتا ہے جس سے کام کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے اور قوانین پر بھی عمل کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔اس سٹسم سے اداروں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ بروقت اپنے معاملات درست کرلیتے ہیں جس سے انہیں وزارت کی تفتیشی ٹیم کی آمد پر کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.