اضافے کی سمری منظور کر لی گئی

ٹریفک جرمانوں میں 200 سے 400 روپے اضافے کی سمری منظور کر لی گئی
حد رفتار کی خلاف ورزی پر موٹرسائیکل سواروں پر 500 گاڑی والوں کو 700 جرمانہ،ہیملٹ نہ پہننے پر 600،سگنل کی خلاف ورزی پر 500 روپے جبکہ ون اے اور لائن کی خلاف ورزی پر 400 روپے جرمانہ ہوگا،قانونی حیثیت ملنے کے فوری بعد نئے جرمانوں کی وصول کا عمل شروع ہو گا

لاہور ( 19 مارچ 2021ء ) نئی بات میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ٹریفک پولیس نے کابینہ کمیٹی سے جرمانوں میں اضافے کی سمری منظور کروا لی ہے۔ٹریفک پولیس نے نئے جرمانوں کی سمری کابینہ کمیٹی برائے قانون کو ارسال کی تھی۔کابینہ کمیٹی نے جرمانوں کی شرح میں اضافے سمیت نئی ترامیم منظور کر لیں۔ وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں ہونے والی کمیٹی نے منظوری دی۔سگنل توڑنے ، اوور سپیڈنگ ، ہیلمٹ ، لائن لین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔جب کہ بغیر لائسنس ،بغیر ہیلمٹ اور دوران ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر بھی جرمانہ بڑھا دیا گیا۔موٹر سائیکل سواروں کے لیے حد رفتار کی خلاف ورزی کا جرمانہ بڑھا کر 200 سے زائد 500 روپے کر دیا گیا ہے۔ گاڑی کا جرمانہ 500 سے 700 جب کہ پبلک سرسز وہیکلز کا جرمانہ 750 سے 1000 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ہیلمٹ نہ پہننے پر 200 کی بجائے 600 روپے جرمانہ ہو گا۔سگنل کی خلاف ورزی پر 500 روپے جرمانہ ہو گا۔سیٹ کے استعمال کو نظر انداز کرنے پر جرمانہ 500 سے بڑھا کر 700 روپے ہو گا۔ون اے اور لائن کی خلاف ورزی پر موٹرسائیکل کا جرمانہ 200 سے 400 کر دیا گیا ہے۔چیف ٹریفک آفیسر لاہور حماد عابد کے مطابق پاکستان میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر جرمانے میں نرمی رکھی گئی ہے۔ جرمانے میں اضافے کا مقصد قانون شکن عناصر کو غلطی کا احساس دلانا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ بھاری جرمانوں کی ادائیگی سے ان کے رویوں میں بھی تبدیلی آئے گی۔موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں ترامیم کی بھی منظوری لے لی گئی ہے۔الیکٹرونک ڈوائسز سے وصول کیا گیا جرمانہ بھی قانون کے دائرہ کار میں ہوگا۔کمیٹی میں سمری اور ترامیم کی منظوری کے بعد جلد ہی قانون سازی متوقع ہے۔قانونی حیثیت ملنے کے فوری بعد نئے جرمانوں کی وصول کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.