آب زم زم کے کنوئیں میں اُترنے والی پہلی خوش نصیب

آب زم زم کے کنوئیں میں اُترنے والی پہلی خوش نصیب انسان ڈاکٹر یحییٰ انتقا-ل کر گئے
ڈاکٹر یحییٰ کوشاک 1979ء میں زم زم کی صفائی اور پانی کا بہاؤ بہتر بنانے کے منصوبے کے انچارج تھے،اس منصوبے کے بعد پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا تھا

مکہ مکرمہ( 3 مارچ2021ء) آب زم زم کی مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت ہے۔ یہ متبرک پانی بیماریوں میں شفا دیتا ہے اور کئی روحانی امراض کا علاج بھی اس میں پوشیدہ ہے۔ ہر سال زم زم کے کروڑوں گیلن تیار کیے جاتے ہیں جنہیں دُنیا بھر سے آئے عمرہ زائرین اور حجاج اپنے گھر والوں اور عزیز و اقارب کے لیے لے جاتے ہیں۔موجودہ دور میں آب زم زم کے کنوئیں کے ذریعے اس متبرک پانی کی سپلائی بڑھانے کے لیے موثر ترین اقدامات کیے گئے ہیں ، جبکہ کنوئیں کی فلٹریشن کا بھی خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کی ایک ایسی شخصیت جسے پہلی بار اس متبرک کنوئیں میں صفائی کے لیے اُترنے کی سعادت حاصل ہوئی، وہ ڈاکٹر یحییٰ کوشاک تھے۔ سعودی میڈیا کے مطابق یہ بڑی سعادت حاصل کرنے والے ڈاکٹر کوشاک کا انتقا-ل ہو گیا ہے۔وہ 80 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ میڈیا کے مطابق سعودی ڈاکٹر یحییٰ کوشاک 1979 میں صفائی منصوبے کے دوران زم زم کے کنوئیں میں اُترنے والی پہلی شخصیت تھے۔  ڈاکٹر یحییٰ کوشاک سوموار کے دن 80 برس کی عمر میں انتقا-ل کر گئے۔ وہ کچھ عرصے سے خاصے علیل تھے۔ مرحوم ڈاکٹر یحییٰ سعودی عرب میں واٹر اینڈ سیوریج اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر بھی تعینات رہ چکے تھے۔ خادم الحرمین شریفین نے 1979 میں پہلی بارآب زم زم کے کنوئیں کی بڑے پیمانے پر صفائی کا منصوبہ شروع کیا تھا، جس کا مقصد پانی کے بہاؤ کو تیز اور بہتر بنانا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.