امریکا اور مغربی ممالک کے الزامات جھوٹے

امریکا اور مغربی ممالک کے الزامات جھوٹے نکلے، کرونا وائرس ووہان کی لیب سے نہیں پھیلا
ایک ماہ کی تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہو سکے کہ چینی علاقے ووہان کی لیب سے وائرس لیک ہوا، عالمی ادارہ صحت نے چین کے حق میں گواہی دے دی

ووہان (09 فروری2021ء) عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس ووہان کی لیب سے نہیں پھیلا، ایک ماہ کی تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہو سکے کہ چینی علاقے ووہان کی لیب سے وائرس لیک ہوا۔ تفصیلات کے مطابق مہلک عالمی وبا کرونا وائرس پھیلاو کے حوالے سے امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی تنقید اور الزامات کا سامنے کرنے والے چین کو بڑا ریلیف مل گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے وائرس کے پھیلاو کے حوالے سے چین کی بے گناہی کی گواہی دے دی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وائرس چینی علاقے ووہان کی لیب سے ہی پھیلا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے چین پر لگائے گئے الزامات اور تمام قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے چین میں ایک ماہ کے دوران جامع تحقیقات کیں،تاہم ووہان کی لیبارٹری سے کرونا وائرس لیک ہونے کے شواہد نہیں ملے، اسی لیے اب اس مفروضے کی مزید جانچ کی ضرورت نہیں۔تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ چین میں دسمبر 2019 سے قبل کرونا وائرس پھیلا۔ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے چمگادڑ سے انسانوں میں منتقل ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم یہ انتقال بھی چینی علاقے ووہان کے علاوہ کہیں اور سے ہوا ہے۔ تاحال کرونا وائرس کے ابتداء کے مقام کی تلاش کیلئے تحقیقات جاری ہیں، تاہم عین مملکن ہے کہ حتمی جواب تک پہنچنے میں کئی سال کا وقت لگ جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.