لاکھوں روپے کیسے خرچ کر دیتی ہے

دو گھنٹوں میں پانچ لاکھ خرچ کر دیئے ۔۔۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد صرف دو گھنٹوں میں لاکھوں روپے کیسے خرچ کر دیتی ہے؟
“لیجیے منہ میٹھا کرلیں” (نجیب صاحب نے مٹھائی کی پلیٹ مہمانوں کے آگے پیش کرتے ہوئے کہا) ۔نجیب صاحب آج بہت خوش تھے ۔ بڑی بیٹی کا رشتہ جو طے ہوگیا تھا۔ لڑکے کے گھرانا شریف اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ لڑکے والوں نے کوئی ڈیمانڈ تو نہیں کی مگر ان کی خواہش تھی کہ شادی دھوم دھام سے کی جائے ۔ اور پھر یہ خواہش تو نجیب صاحب اور ان کی بیگم کی بھی تھی۔
اس سلسلے میں دونوں میاں بیوی نے برسوں پیسہ پیسہ جمع کر کے ایک بڑی رقم اکھٹی کرلی تھی۔ اللہ اللہ کرکے بیٹی کی بارات کا دن بھی آگیا۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ نکاح کے بعد کھانے کا دور چلا ۔ اپنے طور پر بہترین انتظام کرنے کے بعد بھی جب نجیب صاحب کو “سالن میں تیل ہی تیل تو ہے”، “ارے ٹھنڈی روٹی رکھ دی سامنے اور بوتلیں بھی نہیں رکھی” جیسے جملے سننے کو ملے تو ان کو اچانک ہی شدید تھکن کا احساس ہونے لگا۔ ایسا لگا جیسے برسوں محنت کر کے جوڑی گئی ایک ایک پائی کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ صرف آج کے فنکشن کے ہال، کھانے اور وڈیو وغیرہ کا اہتمام کرنے میں ہی 7 لاکھ خرچ ہوگئے ۔ جن سے لوگ تو پھر بھی مطمئن نہیں ہوئے البتہ یہی رقم وہ بچا لیتے تو گھر کے باقی کے مسائل بڑی آسانی سے حل ہوسکتے تھے۔ رخصتی کے بعد بھی نجیب صاحب یہی سوچتے رہے کہ اللہ نے دین میں کتنی آسانی رکھی ہے۔صرف سادہ سا نکاح اور مختصر اہتمام کے ساتھ ولیمے کی سنت ۔ جبکہ ہم لوگوں نے خود شادی جیسے آسان اور بابرکت عمل کو بے جا نمود و نمائش سے کتنا مشکل بنا دیا ہے۔نجیب صاحب جیسے جانے کتنے ہی لوگ ہیں جو روز ہی اپنی لاکھوں کی جمع پونجی شادی بیاہ کی فضول رسومات میں پھونک ڈالتے ہیں اور وقت گزرنے کے بعد ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔آج کل پاکستانیوں کی اکثریت میں یہ چلن عام ہے کہ محض دو تین گھنٹے کی تقریبات کی سجاوٹ، کھانے پینے کے لئے لوگ اپنی سالوں کی بچت سے جوڑے ہوئے لاکھوں روپے پانی کی طرح بہادیتے ہیں جن کا حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا۔
٭ سادگی اپنائیں ایمان کا حصہ ہے : ایک مسلمان اپنی زندگی گزارنے کے ہر عمل کے لئے اسلام میں بتائے گئے اصولوں پر چلنے کا پابند ہے۔ اگر ہم غور کریں تو رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم، ان کی ازواج مطہرات اور صحابہ اکرام کی زندگیاں ہمارے سامنے سادگی کا عملی نمونہ ہیں ۔ ہم کسی بھی اسلامی شخصیت کی زندگی کا مطالعہ کر لیں وہ ہمیں سادگی کا درس دیتے ہوئے ہی ملے گی کیونکہ اسلام ہمیں سادہ اور آسان زندگی گزارنے کی ہی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام نے جہاں زندگی کے تمام امور کے لئے کچھ ضابطے بنائے ہیں وہیں شادی بیاہ کے لئے بھی صرف نکاح اور ولیمے کی گنجائش رکھی ہے اور اس میں بھی اسراف کرنے سے ممانعت کی ہے ۔٭ توجہ :
بہتر ہے کہ حق حلال کی کمائی کو بارات ولیمے کی تقریبات میں آگ لگانے کے بجائے اپنی جائز ضروریات پر خرچ کریں ۔ ورنہ آپ ہاتھ میں بھی نجیب صاحب کی طرح پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.