مجھے کیا کرنا ہوگا

”میں کورونا وبا کے دوران پاکستان آ گیا تھا، اب کفیل نہیں بلا رہا اور نہ واجبات ادا کر رہا ہے، مجھے کیا کرنا ہوگا؟“
پاکستانی کی شکایت پر وضاحت کی گئی ہے کہ واجبات کی وصولی کے لیے وزارت برائے اوور سیز پاکستانیز کے توسط سے سعودیہ کے پاکستانی سفارت خانے کو درخواست دیں

ریاض(6فروری 2021ء ) سعودی عرب میں گزشتہ سال کورونا کی وبا کے باعث لاکھوں پاکستانیوں کو وطن واپس آنا پڑا۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو وطن واپس آنے کے بعد کفیل نے دوبارہ نہیں بُلایا اور نہ وہ ان کے واجبات ادا کر رہا ہے۔ اس طرح کے مسائل میں گھرے پاکستانیوں کی رہنمائی کر دی گئی ہے۔ اُردو نیوز سے ایک پاکستانی ماجد ستی نے سوال کیا ہے کہ جو لوگ چھٹی پر پاکستان آئے تھے کورونا کی وجہ سے واپس نہ جاسکے، کفیل بھی جواب نہیں دے رہا جبکہ حقوق بھی باقی ہیں، وہ کیا کریں؟اس سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد جو کورونا کی وبا کے دوران یا اس سیقبل چھٹی گئے تھے ان کے اقامے اور خروج وعودہ کی مدت میں حکومت کی جانب سے از خود توسیع کردی گئی تھی۔حکومتی توسیع فلائٹوں کے کھولے جانے تک کی گئی تھی تاکہ وہ لوگ واپس آسکیں جو تارکین مقررہ مدت میں واپس آ گئے تھے انہوں نے سہولت سے فائدہ اٹھایا جبکہ وہ افراد جو بعض وجوہ کی بنیاد پر آنہیں سکے تھے ان کے لیے حکومت کی جانب سے یہ سہولت فراہم کی گئی کہ ان کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد توسیع کرائی جاسکے۔ایسے تارکین جن کے واجبات آجر کے ذمہ واجب الادا ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ پاکستانی سمندر پار وزارت کے توسط سے سفارتخانے کو تمام تفصیلات فراہم کریں ساتھ ہی واجبات کا بھی ذکرکیا جائے تاکہ سفارتخانہ کے ذریعے ان کی وکالت کرتے ہوئے لیبرکورٹ میں کیس دائر کیا جائے۔ وزارت سمندر پار کو جب درخواست دیں تو اس میں اس امر کا بھی ذکر ضرورکردیں کہ آپ واپس نہیں جاسکے جس کی وجہ سے کفیل یا کمپنی نے آپ کے سٹیٹس کو ’خرج ولم یعد‘ میں ڈال دیا ہے جو خروج وعودہ کی خلاف ورزی ہے جس پرقانون کے مطابق 3 برس کیلیے بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے یعنی اس دوران بلیک لسٹ کیے جانے والا غیر ملکی اس مدت تک کسی بھی ویزے پر مملکت نہیں آسکتا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.