کفیل نے ایک سال سے تنخواہ نہیں دی

”کفیل نے ایک سال سے تنخواہ نہیں دی، دو سال سے اقامے کی تجدید بھی نہیں کروا رہا ہے“
سعودیہ میں مقیم پاکستانی کارکن نے اپنے ساتھ ہونے والی ز-یادتی کا رونا روتے ہوئے مدد مانگ لی

ریاض( ۔30جنوری2021ء) سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 25 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی گنتی کی شکایت رہتی ہے کہ انہیں معاہدے کے مطابق کم تنخواہ دی جا رہی ہے، یا کفیل انہیں کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر رہا اور تنخواہ مانگنے پر اْلٹا ان کے خلاف کیس درج کروا دیا جاتاہے یا انہیں مفرور ظاہر کر کے ان کے خلاف ’ہروب‘ لگوا دیا جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک اور واقعہ سامنے آئی ہے۔ سعودیہ میں مقیم پاکستانی کارکن شوکت کیانی نے اُردو نیوز سے رابطہ کر کے اپنے ساتھ ہونے والی ز-یادتی کی کہانی بیان کی ہے۔ شوکت نے بتایا ہے کہ وہ کئی برس سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ پہلے تو انہیں تنخواہ ملتی رہی تاہم گزشتہ ایک برس سے انہیں تنخواہ بالکل بھی ادا نہیں کی گئی۔  تقاضا کرنے پر تسلی دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک سال سے ان کے اقامے کی تجدید بھی نہیں کی گئی ۔ اس ساری صورت حال پر وہ بہت پریشان ہیں۔ اس معاملے میں انہیں کیا کرنا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ وزارت افرادی قوت کی عدالت میں کیس دائر کریں کیونکہ قانون کے مطابق اگر کارکن کو 3 ماہ تک اجرت نہیں دی جاتی تو لیبر کورٹ کی جانب سے اسے کفالت کی تبدیلی کے احکامات صادر کردیئے جاتے ہیں۔ اگر آپ ریاض ریجن میں مقیم ہیں تو سفارت خانہ ریاض یا جدہ ریجن کے قونصلیٹ کے شعبہ ویلفئیر سے رجوع کریں اور وہاں درخواست جمع کرائیں جس میں جملہ مسائل کا واضح طور پر ذکر کریں۔ ویلفئیر سیکشن کے ذریعے کمپنی سے رابطہ کر کے معاملہ حل کرایاجاسکتا ہے۔اگرآپ براہ راست بھی لیبر کورٹ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے وزارت افرادی قوت کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنا کیس دائر کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل مکہ میں مقیم ایک پاکستانی عبدالرحمان نے بتایا تھا کہ وہ اپنے تقریباً ایک سو پاکستانی ساتھی ملازمین سمیت ایک کفیل کے ہاں ملازم ہے۔ تاہم اس کفیل نے ان کے ساتھ ظلم و ز-یادتی کی انتہا کر دی ہے۔ کفیل انہیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں دے رہا۔ جس کارکن کا اقامہ ایکسپائر ہوتا ہے اس پر ہروب لگا دیتا ہے۔کارکنان کی جانب سے کفیل کے خلاف 6 ماہ سے پرچہ بھی درج کروایا گیا ہے، تاہم ابھی تک کفیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.