غریبوں کی سواری چنگ چی

غریبوں کی سواری چنگ چی ۔۔۔ بند ہوگئی تو غریب عوام کس پر سفر کرے گی؟
خبر کے مطابق محکمہ ٹراسپورٹ نے سندھ میں چلنے والے چنگ چی رکشوں کے خلاف سندھ ٹریفک پولیس کو کارروائی کرنے کے لئے خط لکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ بھر سے مسلسل ملتی شکایتوں کی وجہ سے ان رکشوں کو بند کرنا ضروری ہے کیونکہ اس سے نہ صرف حادثات کی شرع میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹریفک میں بھی خلل پڑتا ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ کئی بار پہلے بھی چنگ چی رکشوں کی شکایت کے لئے خط لکھا جا چکا ہے لیکن کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں آئی ۔
خطرناک تو ہے
چنگ چی رکشوں کا اصل مسئلہ ان کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نہ ہونا ہے اس کے علاوہ ان پر چھ سے نو سیٹرز لگے ہوتے ہیں جس کا مطلب اتنے ہی افراد ان پر سفر کر سکتے ہیں جو کہ ایک خطرناک بات ہے۔ نہ چنگ چی رکشوں کو کوئی روٹ پرمٹ ہوتا ہے، نہ فٹنس سرٹیفیکیٹ اور نہ ہی ان کو چلانے والے کے ڈرائیونگ لائیسنز کا کچھ اتا پتا ہوتا ہے۔ اس لئے اس بات کو تو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ چنگ چی رکشے عوام کی جانوں کے لئے رسک ہیں۔
سستی سواری سے محروم عوام اب کیا کریں گے؟
لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ عوم جو سفر کے لئے کسی پبلک سواری کے محتاج ہیں اگر چنگ چی رکشے ختم کردئیے گئے تو اس کے بعد کیا کریں گے۔ پہلے ہی بھاری بھرکم آبادی والے شہر میں پبلک بسز آٹے میں نمک کے برابر ہیں وہ دفاتر ، اسکول ، کالج جانے کے لئے کس سواری پر انحصار کریں؟ سندھ گورنمنٹ جو پچھلے پندرہ برسوں سے صوبے میں ایک بھی ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے اب چنگ چی کی سہولت ختم کرنے کے بعد عوام کے مسائل کیسے حل کرے گی؟

 

Sharing is caring!

Comments are closed.