مساجد بند کرنا پڑیں گی

”اگر کورونا کیسز مزید بڑھ گئے تو سعودی عرب میں مساجد بند کرنا پڑیں گی“
سعودی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے مساجد کی بندش کا امکان ظاہر کر دیا

مکہ مکرمہ( 5فروری2021ء) سعودی عرب میں کورونا کیسز بڑھنے کے بعد مساجد میں خطبات اور نمازوں کے اوقات کے حوالے سے اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت باجماعت نمازوں کی ادائیگی کے فوراً بعد مساجد بند ہو جائیں گی اور جمعہ کے خطبات بھی پندرہ منٹ تک محدود کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم اس اعلان کے ایک روز بعد ہی سعودی وزیر برائے امورِ اسلامی،دعوت و رہنمائی کا ایک اہم بیان سامنے آ گیا ہے۔ سعودی وزیر ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے ایک ویڈیو بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مملکت میں کورونا کیسز میں کمی نہ آئی تو سعودی عرب کی تمام مساجد کو ایک بار پھر بند کیا جا سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں مساجد میں صرف اذان دی جا سکے گی اور نمازیں گھروں پر ہی ادا کرنی ہوں گی۔الاخباریہ چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ کا کہنا ہے کہ کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے احتیاطی اقدامات اور اہم فیصلوں کے حوالے سے وزارت صحت، وزارت داخلہ اور ممتاز علماء کی کونسل سے مسلسل رابطے میں ہیں۔اگر صورت حال میں بہتری نہ آئی تو مساجد میں نمازکی ادائیگی پر جزوی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.