چہرے اور آنکھ کے عکس سے ہو گی

مسافروں کے لیے جدید ترین سہولت فراہم کر دی گئی دُبئی کے ایئرپورٹ پر آنے جانے والے مسافروں کے لیے جدید ترین سہولت فراہم کر دی گئی  ایمریٹس ایئر لائنز نے ایئرپورٹ پر بائیو میٹرک ٹریک بنا دیا، مسافروں کی شناخت چہرے اور آنکھ کے عکس سے ہو گی

دُبئی(اُ اکتوبر2020ء) ایمریٹس ایئر کا شمار دُنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا ہے۔ کورونا کی وبا کے دنوں میں اپنے مسافروں کی صحت کے تحفظ اور سماجی فاصلے کو ممکن بنانے کی خاطر ایمریٹس نے دُبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بائیو میٹرک ٹریک کی سہولت فراہم کر دی ہے جو اس ایئرپورٹ سے روانہ ہونے اور یہاں اُترنے والے مسافروں کو حاصل ہو گی۔ جو اس مخصوص راہداری پر ہی چل کر امیگریشن کے تمام مراحل سے گزر سکیں گے، اس دوران ان کے کاغذات کی چیکنگ کا مرحلہ بھی مشین کے ذریعے ہوگا۔اس ٹریک پر نصب بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے ذریعے مسافروں کے چہرے اور آنکھ کے عکس کی مدد سے اُن کی شناخت کی جائے گی۔ جس سے ایک تو ان کا وقت بچے گا، دوسرا کسی بھی اہلکار سے رابطہ نہ ہونے کے باعث کورونا سے مکمل سماجی فاصلے کی احتیاط بھی رہے گی۔اس ٹریک پر ایمریٹس کے مسافروں بورڈنگ گیٹس پر چیک ان کے کا تمام پراسس جدید ٹیکنالوجی سے مکمل کروائیں گے ۔جس کے باعث مسافروں کی زیادہ لمبی قطار بھی نہیں لگے گی۔ اس ٹریک پر وہ امیگریشن کے مراحل سے گزر سکیں گے، ایمریٹس کے لاؤنج میں داخل ہو کر ٹریک پر چلتے ہوئے سیدھا جہاز میں سوار ہو جائیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت امیگریشن اہلکاروں کا کام بھی ختم ہو جائے گا ۔جبکہ پاسپورٹ پراسٹمپ بھی کوئی اہلکار نہیں لگائے گا، بلکہ بائیو میٹرک مشین سے ہی یہ کام ہو گا۔ ایمریٹس کے مطابق مستقبل میں دیگر ٹرمینلز پر بھی یہ بائیو میٹرک ٹیکنالوجی والے ٹریک بنائے جائیں گے۔ فی الحال یہ بائیو میٹرک ٹریک ٹرمینل نمبر 3 پر بنایا گیا ہے جہاں چیک ان کاؤنٹرز پر بزنس اور فرسٹ کلاس مسافروں کے لیے بائیو میٹرک ٹچ پوائنٹس انسٹال کیے گئے ہیں۔جن میں ایک سمارٹ ٹنل کے ذریعے امیگریشن گیٹس سے گزارا جائے گا۔اس کے علاوہ یہاں سمارٹ انڈر پاس سمیت سفری گیٹس اور کونکرز بی میں امارات ایئر ٹرمینل کے گیٹ پر بھی اس کی سہولت مہیا ہے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.