دیکھنے کا ڈراپ سین ہو گیا

پی آئی اے پائلٹس کا فضا میں اڑن طشتری دیکھنے کا ڈراپ سین ہو گیا
پاکستان پائلٹ نے فضاء میں جو چیز دیکھی تھی وہ اڑن طشتری نہیں بلکہ ایک بادل تھا جسے لین ٹیکولر کلاؤڈ کتا جاتا ہے۔خلائی سائنسدان نے تصدیق کر دی

اسلام آباد (  30جنوری 2021ء) پنجاب یونیورسٹی کے خلائی سائنسدان جاوید سمیع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل پاکستان پائلٹ نے فضاء میں جو چیز دیکھی تھی وہ اڑن طشتری نہیں بلکہ ایک بادل تھا جسے لین ٹیکولر کلاؤڈ کہا جاتا ہے۔جاوید سمیع کے مطابق جہاز عام طور پر 37 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اُس وقت بنائی گئی جب پی آئی اے کا جہاز ایک ہزار فٹ کی بلندی پر تھا۔ پائلٹ نے فضاء میں ایک بصری عمل کا مشاہد کیا۔پائلٹ کو نظر آنے والی شے لین ٹیکولر کلاؤڈ تھا۔کمرشل پائلٹ اکثر ایسے بادلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 500 سے 900کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار پر اجسام کی ےصور لیں تو ن کی ہیت پھیل جاتی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے کے پائلٹس نے کراچی کی فضا میں ایک اُڑن طشتری کو دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پی آئی اے کا جہاز 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا جب جہاز کے پائلٹس نے جہاز کے اوپر فضا میں ایک گول چیز دیکھی۔ جس کے بعد پرواز کے عملے نے فوری طور پر اس گول چیز کی ویڈیو بنائی جس کے بعد انہیں یہ معلوم ہوا کہ حال ہی میں دنیا بھر میں کئی جگہ ایسی ہی چیزیں فضا میں دیکھنے کی اطلاعات ہیں۔ جہاز کے پائلٹ کا کہنا تھا کہ اس گول چیز پر ایک دھاتی رنگ موجود تھا اور اس کے مرکز سے سفید روشنی پُھوٹ رہی تھی۔ پائلٹ نے کہا کہ یہ کہنا مشکل تھا کہ یہ گول چیز صرف منڈلا رہی ہے یا آہستہ آہستہ اپنی جگہ بھی تبدیل کر رہی ہے۔ اس اُڑن طشتری کی ویڈیو شئیر ہونے کے بعد یو ایف او سے متعلق لکھنے والے بلاگر اسکاٹ سی وئیرنگ کا کہنا تھا کہ پاکستانی پائلٹس کی جانب سے شئیر کی جانے والی اُڑن طشتری کی یہ ویڈیو اُڑن طشتریوں کی تحقیق کی پوری تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ واضح ویڈیو تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ خلائی مخلوق دنیا میں جہازوں کا پیچھا کرتی اور انسانی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہے۔ پاکستانی پائلٹس کی جانب سے شئیر کی جانے والی ویڈیو کو آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

Sharing is caring!

Comments are closed.