کورونا وائرس اور مردانہ کمزوری

کورونا وائرس اور مردانہ کمزوری، جرمن ڈاکٹر نے انتہائی پریشان کن انکشاف کردیا

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس پھیپھڑوں سمیت کئی اندرونی اعضاءکو نقصان پہنچاتا ہے اور کئی کیسز میں یہ نقصان طویل مدتی ثابت ہو رہا ہے۔ اب ایک جرمن ڈاکٹر نے مردانہ صحت کے لیے بھی اس موذی وباءکا ایک طویل مدتی نقصان بتا کر مردوں کو پریشان کر دیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق ڈاکٹر ایکسیل جیورگ نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مردوں میں عضو مخصوصہ کی ایستادگی کا عارضہ کورونا وائرس کے طویل مدتی سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت 32ایسے مردوں کا علاج کر رہے ہیں جنہیں کورونا وائرس کی وجہ سے ایستادگی میں کمزوری کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایکسیل کا کہنا تھا کہ لگ بھگ ان تمام مردوں میں کورونا وائرس سے صحت مندہونے کے کئی ماہ بعد بھی عضو مخصوصہ کی ایستادگی کا مسئلہ برقرار رہا جس کے بعد انہوں نے علاج کے لیے رجوع کیا۔ چنانچہ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ مسئلہ بھی کورونا وائرس کا ایک طویل مدتی سائیڈ ایفیکٹ ہے جس سے کورونا کے مرد مریض دوچار ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی ڈاکٹر ڈینا گریسن اور دیگر ماہرین بھی یہ پریشان کن انکشاف بھی کر چکے ہیں کہ کورونا وائرس مردوں میں مردانہ کمزوری کا سبب بن رہا ہے۔ ڈاکٹر ڈینا گریسن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ’ویسکیولیچر‘ میں مسائل پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں مرد کو عضو مخصوصہ کی ایستادگی کا مسئلہ لاحق ہو جاتا ہے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.