کامیاب بہو بننے کے راز

کامیاب بہو بننے کے راز ۔۔۔ آپ کی جیت 100 فیصد یقینی
ہزاروں خواب، دل میں آنے والے دنوں کی خوشیوں بھری کتاب، اپنی حکومت، اپنی نئی دنیا اور اپنی بادشاہت کا راج۔۔۔ان سب امیدوں کے جلتے ہیں چراغ ایک نئی بہو کی آنکھوں میں۔۔۔لیکن اکثر کو شادی کے آغاز میں ہی سمجھ آجاتی ہے گھر کی کہانی۔۔۔لیکن یاد

رکھئے! زندگی کو مثبت انداز سے بہتر بنانا ہے اور کچھ باتوں پر عمل کرنا ہے تبھی بن سکیں گی آپ ایک کامیاب بہو شادی سے پہلے کی مشق:اپنی شادی سے پہلے ہی ان لوگوں سے دور رہنا شروع کر دیجئے جو آپ کو سسرال سے بدظن کرنے یا انہیں قابو میں کرنے کے ٹوٹکے بتائیں۔۔۔کیونکہ اگر آپ کے ذہن میں ہوگی ایک بھی منفی بات تو گھر کی بنیاد ہی کمزور ہوجائے گی۔۔۔شوہر کو قابو کر نے کی سوچ کے بجائے خود کو ثابت کرنے کی لگن پیدا کریں۔۔۔بہت ساری لڑکیاں شادی سے پہلے ہی اپنی شرائط کی فہرست بنا لیتی ہیں جو انہوں نے شادی کے بعد منوانی ہے۔۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ محل بنانا ہے تو ریت تو ہاتھوں میں اٹھانی ہی ہوگی- گھر کے ماحول میں خود کو ڈھالنا:شادی صرف دو لوگوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ یہ دو خاندان کا ملاپ ہوتی ہے۔۔۔آپ رخصت ہوکر جس گھر میں گئی ہیں وہاں پہلے سے ایک نظام زندگی ہے اور پہلا قدم آپ نے بڑھانا ہے اور اس نظام زندگی کا حصہ بننا ہے۔۔۔شادی کے آغاز میں ہی ہر بات میں نکتہ چینی کرنا، مین میخ نکالنا، گھر کے افراد کو خاطر میں نا لانا اور یہ سوچنا کہ پورا گھر میرے حساب سے تبدیل ہوجائے تو یہ ایک منفی سوچ ہے اور اس کے نتائج سوائے لڑائی جھگڑے اور فساد کے کچھ نہیں۔۔۔جاتے ہی گھر کے بڑوں کو بڑا بنائیں اور ان سے گھر کے نظام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔ہر بات میں ان کا مقابلہ اپنے میکے یا اپنے دوستوں سے مت کریں۔کچن اور گھر کی ذمہ داریوں میں حصہ دار بنیں:آپ شادی ہو کر کسی ہوٹل میں نہیں بلکہ ایک گھر میں آئی ہیں جہاں روزانہ صفائی بھی ہوگی، کھانا بھی بنے گا، مہمان داری بھی ہوگی اور گھر کے باقی معاملات بھی ہوں گے۔۔۔۔جس طرح باقی افراد گھر کا کام کرتے ہیں اسی طرح آپ بھی خود کو ان کے ساتھ شامل کریں۔۔۔اگر آپ کی شادی ملک سے باہر ہوتی یا کسی اکیلے گھر میں بھی ہوتی تب بھی آپ کو سارے کام خود ہی کرنے پڑتے۔۔۔لیکن ہر وہ کام جسے آپ آغاز سے ہی بوجھ تصور کریں گے اس میں کبھی خوشی کا عنصر شامل نہیں ہوتا۔۔۔اپنے کاموں کا موازنہ بھی دوسروں سے مت کیجئے کیونکہ آپ کی محبت کا موازنہ بھی کیا جاسکتا ہے اور یہ ہی آغاز ہوتاہے لڑائی جھگڑوں کا۔ شوہر سے گھر والوں کی شکایت کرنا:سوچئے اگر کوئی آپ کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی برائیاں آپ سے کرے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ تو پھر شوہر کوئی خلائی مخلوق نہیں ہے۔۔۔اس کو بھی اتنا ہی برا لگتا ہے جتنا آپ کو۔۔۔ہر وقت کان بھرنے سے ہو سکتا ہے وہ ایک دن اپنے گھر والوں سے آپ کی خاطر الجھ بیٹھے لیکن یہ وقتی ہوگا۔۔۔اس کے بعد وہ آپ کو بھی شاید اس محبت کا حصہ دار نا سمجھے جس کی آپ مستحق ہیں۔۔۔وہ ایک شوہر ہی نہیں ایک بھائی اور بیٹا بھی ہے اور بہتر ہوگا کہ کہ اس کی ذمہ داریوں اور محبتوں کو توازن میں رہنے دیں۔۔۔شادی کر کے اس نے باقی رشتے رخصت نہیں کئے بلکہ ایک نیا رشتہ اپنایا ہے۔۔۔اپنے دل کو وسیع کریں اور شکایتوں سے پرہیز کریں۔ ایک کامیاب بہو وہ نہیں ہوتی جو شوہر کو مٹھی میں کرکے سارے گھر پر راج کرے اور جس کی اجازت کے بغیر گھر کا پتہ بھی نا ہل سکے۔۔۔بلکہ کامیاب بہو وہ ہوتی ہے جس کے بغیر گھر والے اپنی خوشیاں ادھوری سمجھیں۔۔۔لوگوں کی زندگی کا حصہ بنیں انہیں زندگی سے نکالیں نہیں۔۔۔اسی میں آپ کی جیت ہے-

Sharing is caring!

Comments are closed.