چائے کی پیش کش اب بھی برقرار ہے

انگلیاں ‏اٹھانے والوں کو حکومت اچھے سے جواب دے رہی ہے، چائے کی پیش کش اب بھی برقرار ہے
جہاں جواب کی ضرورت ہوتی ہے وہاں جواب ‏دیتے ہیں، جہاں الزامات کا کوئی وجود ہی نہیں تو ان کا جواب دینے کا فائدہ نہیں: ترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

راولپنڈی ( 25 فروری2021ء) ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ انگلیاں ‏اٹھانے والوں کو حکومت اچھے سے جواب دے رہی ہے، چائے کی پیش کش اب بھی برقرار ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے جمعرات کے روز نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے اہم بیان دیا گیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی جانب سے انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں انہیں حکومت کی جانب سے بہترین جواب دیا جاتا ہے۔ جہاں جواب کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ہم بھی جواب ‏دیتے ہیں لیکن جہاں الزامات کا کوئی وجود ہی نہیں تو ان کا جواب دینے کا فائدہ نہیں ہوتی۔ میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا چائے کی پیش کش ایک عمومی پیش کش تھی، جو اب بھی برقرار ہے۔
پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر ہوئے رابطے کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے وضاحت کی ہے کہ یہ اقدام کسی بھی پریشر کے نتیجے میں نہیں اٹھایا گیا، بلکہ یہ ایک پرانا میکنزم ہے جس کے تحت ‏جیسے بھی حالات ہوں رابطہ جاری رہتا ہے ۔ اس وقت رابطہ کسی خاص حالات کے تحت نہیں ہوا بلکہ ملٹری ٹو ‏ملٹری جو میکنزم ہے اسی کے تحت ڈی جی ایم اوز رابطہ ہوا۔زمینی حقائق دیکھتے ہوئے دونوں جانب سے اتفاق کیا ‏گیا کہ سیزفائر پر عمل ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ جمعرات کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا۔دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز میں ہاٹ لائن کے موجود میکنزم سے متعلق گفتگو کی گئی۔پاک بھارت ڈی جی ایم اوز نے ایل او سی کی دو طرفہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز میں بات چیت ہوئی اور اچھے ماحول میں ہوئی،ڈی جی ایم اوز نے بنیادی معاملات اور خدشات حل کرنے پر اتفاق ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں یہ رابطہ 1987 سے جاری ہے۔پاکستان اور بھارت متفق ہیں کہ ہاٹ لائن موجوہ میکنزم کو موثر بنایا جائے۔ایل او سی پر سیز فائر کے لیے 2003 میں ایک اور اندڑ سٹینڈنگ ہوئی جب کہ 2014ء سے ایل او سی سیز فائر خلاف ورزیوں میں تیزی آ گئی تھی۔2003 کے بعد سے اب تک 13500 سے زائد سیز فائر خلاف ورزیاں کی گئیں جن میں 310 شہری جاں بحق ہوئے اور 1600کے قریب زخمی ہوئے۔میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ 2014 سے 2021 کے درمیان 97 فیصد سیز فائر خلاف ورزیاں ہوئیں اور 2019ء میں سب سے زیادہ سیز فائر خلاف ورزیاں ہوئیں۔جب کہ 2018ء میں سیز فائر خلاف ورزیوں سے سب زیادہ جانی نقصان ہوا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.