پہاڑوں کا بیٹا پہاڑوں میں کھو گیا

’پہاڑوں کا بیٹا پہاڑوں میں کھو گیا‘،سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے علی سدپارہ کو خراج تحسین
علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے آج اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے


سکردو (18 فروری 2021ء ) گلگت بلتستان حکومت اور علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کی جانب سے اپنی والد کی موت کی تصویق کے بعد سوشل میڈیا پر قومی ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنیکا سلسلہ جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت ناصر علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت ،پاک فوج اور محمد علی سدپارہ کے لواحقین اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ پاکستانی کوہ پیما اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں ۔ ناصر علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی ایوی ایشن اور حکومت نے گزشتہ 13 دن سرتوڑ کوشش کرنے کے باوجود علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کوہ پیمائوں کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تاہم ناکام رہے جس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیما اب نہیں رہے ہیں،علی سدپارہ اور ان کے بیٹے ساجد سدپارہ کو سول اعزاز دیا جائے گا ۔ ناصر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو سکردو ایئر پورٹ علی سدپارہ کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز دیں گے جب کہ مایہ ناز کوہ پیما کے نام سے کوہ پیمائی کی تربیت کے لیے سکول بھی قائم کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی ہیرو کی خدمات کو سلام پیش کرتی ہے، علی سدپارہ کے بچوں کی مالی اور اخلاقی معاونت کی جائے گی جب کہ انہیں سکالر سپش دی جائیں گی جب کہ کوہ پیمائی کے دوران حادثات کا شکار ہونے والے کوہ پیمائوں کے اہل خانہ کی مالی امداد کے لیے قانون بنایا جائے گا۔
علی سدپارہ کے بیٹے کی جانب سے اپنے والد کے انتقال کی خبر کی تصدیق کے بعد سوشل میڈیا پر مایہ ناز کوہ پیما کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ’پہاڑوں کا بیٹا پہاڑوں میں کھو گیا۔۔۔۔!!!‘ ، دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی کچھ یوں اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔ خیال رہے کہ دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی مہم پر جانے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں کو لاپتہ ہوئے 13 دن سے زائد ہوگئے ۔ لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے پاکستان آرمی ایوی ایشن ، پاک فضائیہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے سرچ آپریشن میں تینوں کوہ پیمائوں کا سراغ لگانے کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں۔ علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش میں نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی بلکہ پاک فوج نے ریسکیو ہیلی کاپٹرز اور سی 130 جہازوں کے علاوہ ایف 16 جنگی طیاروں سے بھی دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کے علاقے کے فوٹو گرافک سروے اور سرچنگ میں مدد فراہم کی ۔ ان کی تلاش میں آئس لینڈ کی خلائی ایجنسی نے سٹیلائٹ کی جدید ٹیکنالوجی سے علاقے کی تصاویر بنائیں اور کئی مایہ ناز کوہ پیمائوں کی جانب سے زمینی سرچ آپریشن بھی کیا گیا لیکن علی سدپارہ اور ساتھیوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو موسم سرما میں بغیر آکسیجن کے سر کرنے نکلے تھے تاہم 5 فروری کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.