پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ

واٹس ایپ کا شدید ردِعمل کے باوجود متنازع پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ
صارفین کو اپنے طور پر نئی پرائیویسی پالیسی پڑھنے کی اجازت دیں گے،اضافی معلومات کی فراہمی کے لیے ایک بینر بھی دکھایا جائے گا۔ واٹس ایپ انتظامیہ

اسلام آباد( 19 فروری 2021ء) معروف میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے شدید تنقید کے باوجود متنازع پرائیویسی پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل واٹس ایپ نے جنوری کے مہینے میں صارفین کی تنقید کے بعد نئی پرائیویسی پالیسی موخر کر دی تھی اور 8 فروری سے کسی صارف کا بھی کاﺅنٹ بندنہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔واٹس ایپ نے پوری دنیا سے تشویش اور عوامی تنقید کے بعد فیس بک سے ڈیٹا شیئرنگ اقدام وقتی طور پر موخر کردیا تھا لیکن اب واٹس ایپ نے کہا ہے کہ وہ اسی پالیسی کو جاری رکھیں گے۔واٹس ایپ کے مطابق وہ صارفین کو اپنے طور پر نئی پرائیویسی پالیسی پڑھنے کی اجازت دیں گے اور اضافی معلومات کی فراہمی کے لیے ایک بینر بھی دکھایا جائے گا۔واٹس ایپ کے مطابق وہ صارفین کو میسجنگ پلیٹ فارم کا استعمال جاری رکھنے کے لیے اپ ڈیٹس کا جائزہ لینے اور اسے قبول کرنے کی یاد دہانی کرانا شروع کریں گے۔واٹس ایپ نے مزید کہا کہ اس نے اس حوالے سے خدشات کو دور کرنے کی کوشش اور ان کے حل کے لیے مزید معلومات بھی شمل کی ہیں۔آئندہ ہفتوں میں واٹس ایپ میں ایک بینر کا اضافہ کیا جائے گا۔جس کے ذریعے صارفین کو پرائیویسی پالیسی سے متعلق مزید معلامات فرہام کی جائیں گی جسے وہ اپنے طور پر پڑھ سکیں گے۔واٹس ایپ نے کا مذکورہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اس کی پیرنٹ کمپنی فیس بک نے آسٹریلیا کے خبرسارں اداروں کے مواد کو سوشل سائٹ پر شئیر کرنے پر پابندی عائد کی ہے جس پر اسے تنقید کا بھی سامنا ہے۔اس سے قبل واٹس ایپ کی طرف سے کہا گیاتھا کہ وہ 8 فروری کے بعد سے اپنی پالیسی بدلتے ہوئے صارفین کا بہت سا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرے گی۔ اس اعلان کے بعد دنیا بھر میں واٹس ایپ کے دو ارب کے لگ بھگ صارفین نے پرائیویسی پالیسی پر تنقید کی تھی اور دوسری جانب لوگوں کی بڑی تعداد نے پالیسی کی دستاویز کو مسترد کرتے ہوئے دیگر ایپس کی جانب رجوع کرنا شروع کردیا تھا۔ ان ایپس میں سگنل اور ٹیلی گرام سرِ فہرست ہیں جو ایپل اور ایپ اسٹور پر سرِ فہرست آی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض ممالک میں ان ایپس کو نمبر ایک ڈائون لوڈ ہونے والی فہرست میں شامل کیا جارہا تھا۔ عوام کی جانب سے واٹس ایپ کی نئی پالیسی کو شدید تنقید کا سامنا تھا اور دنیا بھر کے لوگ تیزی سے واٹس ایپ ایپ چھوڑ کر دیگر پلیٹ فارم کی جانب راغب ہورہے تھے۔
واٹس ایپ نے اس سے متعلق اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ہم سے رابطہ کرنے والے ہر فرد کا شکریہ۔ ہم واٹس ایپ صارفین سے براہِ راست رابطہ کرکے ’غلط فہمی‘ کا ازالہ کریں گے۔ 8 فروری کو کسی کے بھی اکائونٹ ختم یا معطل نہیں کئے جائیں گے۔ مئی میں ہم اپنے کاروباری منصوبے کو دوبارہ پیش کریں گے۔ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صارفین کو ہماری شرائط جاننے اور جائزہ لینے کا مناسب وقت مل جائے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم کوئی اکائونٹ ڈیلیٹ نہیں کریں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.