ویلنٹائن ڈے آگیا والدین ضرورپڑھ لیں

ویلنٹائن ڈے آگیا والدین ضرورپڑھ لیں 14فروری کو چھٹی کیوں نہیں دی جاتی؟
ویلنٹائن ڈے یا عید محبت کی اصلیت یا تاریخ کیا ہے سب سے پہلے یہ جاننا آپ کیلئے اہم ہے کیونکہ ہم جس بارے میں جس کی تفصیل جانتے ہیں تاریخ جانتے ہیں ۔ اس حوالے سے جو ویلنٹائن ڈے کی تاریخیں ملتی ہیں وہ چند آپ کی خدمت پیش کریں گے ۔ کیا ویلنٹائن ڈے کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق ہے یا نہیں تاریخ میں کہا گیا ہے کہ سترہ سو سال پہلے جب روم میں بہت سے رب مانے جاتے تھے

اور بہت سے تخیلاتی باطل معبودوں کی عبادت کی جاتی تھی ۔بارش والا معبود الگ تھا ،روشنی والا معبود الگ تھا نعوذبااللہ طاقت والا معبود الگ تھے غرض کہ کفر اور شرک کا لامتناہی سلسلہ جاری تھا اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر ایمان نہیں لارہا تھا ایسے میں رومیو کے مذہبی رہنما جس کا نام ویلنٹائن تھا اس نے ایسائیت قبول کرلی جس کا اثر عام لوگوں پر کافی گہرا ہوسکتا تھا لہذا عیسائی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے حکومت روم کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی حل نہ تھا کہ ویلنٹائن کوختم کردیا جاتا تاکہ ان لوگوں آباؤ اجداد کا دین اور مسلک محفوظ رہے بس ویلنٹائن کو ختم کردیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب روم میں عیسائیت عام ہوگئی تو لوگوں نے ویلنٹائن کی موت کا دن منانا شروع کیا تاکہ اس بڑے عیسائی کو یاد رکھا جائے او راس کے جانے پر ندامت کا اظہار کیا جائے وہ اظہار کیسے کیا جاتا تھا۔
ایک اور جگہ کہا گیا ہے کہ چودہ فروری رومیوں کی ایک معبودہ دیوی یونو جونو کا دن تھا اس معبودہ کے بارے میں میں رومیوں کا عقیدہ تھا کہ وہ ان کے سب معبودوں کی ملکہ ہے اور سب معبودوں بادلوں اور آسمانی بجلی وغیرہ کے بادشاہ معبود جوپیٹر اور جوف کی بیوی ہے اور اس کو عورتوں اور شادی کے معاملات کیلئے خاص سمجھا جاتا ہے اس کفریہ عقیدے کی بناء پر اس معبودہ کا دن عورتوں سے محبت جتانے شادی کرنے یا بغیر شادی کے شادی والے تعلقات منانے کیلئے خاص جان کر منایا جانے لگا ایک اور جگہ پر ذکر کیا جاتا ہے کہ رومیوں کی ایک اور معبودہ لیس بزل نامی بھی تھی اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ ایک مؤنث بھیڑیا تھا اور کہیں انسان ہی بتایا جاتا ہے اور اسے ریاسلویہ بھی کہا جاتاہے اور لکھا جاتا ہے رمیوں کے باطل خرافاتی عقائد میں سے یہ عقیدہ بھی تھا کہ سلویہ یا ریاسلویہ نے روم کے دونوں بانیوں رومیلس اور ریمس کو ان کے بچوں کو دودھ پلایا تھا
اور وہ ان کی بن بیاہی ماں کا دعویٰ کرتی تھی اور بچوں کا باپ میں باطل معبود مارس تھا۔ پھر جب دونوں بچے بڑے ہوئے انہوں نے روم دریافت کیا اپنی حکومت بنا لی تو انہوں نے اس چودہ فروری کو محبت نامی عبادت گاہ میں اس بھیڑیا معبودہ کا دن منانا شروع کردیا اس عبادت گاہ کو محبت نام اسی لیے دیا گیا کہ ان کے کفریہ عقیدے کے مطابق ان کی بھیڑیا معبودہ روم بنانے والے دونوں بچوں کو محبت کرتی تھی یا ناجائز محبت کا یہ نتیجہ تھے اس محبت کی یاد منائی جاتی تھی جس کی یاد مناتے آج بھی اس دن ناجائز تعلقات بنائے جاتے ہیں۔لڑکے نوجوان اس دن کو مناتے ہیں وہ اس کا خیال نہیں رکھتے ہیں کہ وہ کسی کے گھر پھول بھیج رہے ہیں تو کوئی اور بھی ان کے گھر پھول بھیج رہا ہوگا۔ یہ کس قدر ہمارے معاشرے کیلئے خطرنا ک ہوسکتا ہے معاشرے اور ہمارے دین کیلئے اسی لیے اس دن کو نہیں منانا چاہیے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.