وجہ سامنے آ گئی

فیٹف اجلاس میں بھارت سے زیادہ فرانس کی پاکستان مخالفت، وجہ سامنے آ گئی
فرانس کے بھارت کے ساتھ ہونے والے دفاعی آلات کی فراہمی کے معاہدے ہیں، پاکستان کے حوالے سے بھارت اور فرانس ایک ہی صفحے پر ہیں، سابق سیکرٹری خارجہ

لاہور ( 28 فروری2021ء) فیٹف اجلاس میں بھارت سے زیادہ فرانس کی پاکستان مخالفت کی وجہ سامنے آ گئی ہے ۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف اے ٹی ایف میں فرانس پاکستان کا بھارت سے بڑا مخالف بن کر سامنے آیا ہے ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کے روایتی حریف بھارت سے بھی زیادہ یورپی ملک فرانس نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کی شدید مخالفت کی ہے۔ فرانس کی جانب سے پاکستان کی کھل کر مخالفت کے پیچھے فرانس کے بھارت کے ساتھ ہونے والے دفاعی آلات کی فراہمی کے معاہدے ہیں یا حالیہ مہینوں میں گستا=خانہ خاک=وں کی دوبارہ نمائش پر پاکستانی حکومت کا ردعمل ، اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے تھے تاہم پاکستان کے ممتاز سفارت کار اور سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ فرانس بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدوں کو بڑھانے کی غرض سے ایسے کام کر سکتا ہے جس سے اسے بھارت کو خوش کرنا مقصود ہو۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے پاکستان کے حوالے سے بھارت اور فرانس ایک ہی صفحے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے حوالے سے فرانس کے رویے کو بھارت کے ساتھ اسکے دفاعی سازو سامان کی فروخت کے روشنی میں دیکھا جائے تو فرانس کی مخالفت کی وجہ سمجھ آتی ہے۔بھارت نے حال میں فرانس سے دفاعی پیداوار کے متعدد معاہدے کیے,جن میں جدید جنگی طیارے رافیل کا سودا بھی شامل ہے۔خیال رہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے 25 فروری کو ختم ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کو اس لسٹ سے نکلنے کیلئے مزید تین نکات پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو تین سفارشات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اس لیے اسے جون 2021 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے۔ جون کے اجلاس میں غور کیا جائے گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے یاڈو مور کا مطالبہ کیا جائے۔پاکستان کو2018 میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 40 سفارشات میں سے صرف 13 پر پوری کیں,اور اسے 27 سفارشات پر عملدرآمد کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.