واپسی دو اہم کالز کی وجہ سے ہوئی

جہانگیر ترین کی واپسی دو اہم کالز کی وجہ سے ہوئی
سینیٹ الیکشن میں اصل مقابلہ جہانگیر ترین اور آصف زرداری میں ہوگا،جوڑ توڑ کے ماہر آمنے سامنے ہوں گے۔سینئر تجزیہ کاروں کا سینیٹ انتخابات میں جہانگیر ترین کی واپسی پر تجزیہ

اسلام آباد ( 20 فروری2021ء) سینئر تجزیہ کار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آئین میں لکھا ہوا تھا کہ آپ ہاتھ کھڑا کر کے ووٹ کریں اور اگر آپ ایسے کمرے میں تھے کہ آپ اپنا ہاتھ کھڑا کرتے تو آپ صدمے سے ہی مر جاتے۔اور پھر آپ کہیں کہ ہم ہاتھ کھڑا کر کے ووٹ نہیں دے سکتے اس لیے آپ آئین میں ترمیم کر دیں، کیا اس بات کا کوئی جواز بنتا ہے ؟۔ ظفر ہلالی نے مزید کہا کہ اے ٹی ایمز کو واپس کیوں بلایا گیا ہے ؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہانگیر ترین کو کیوں بلایا گیا ہے،کیا اس سے کوئی فائدہ اٹھایا جائے گا۔نواز شریف ن لیگ کی اے ٹی ایم جب کہ زرداری پیپلز پارٹی کی اے ٹی ایم،جہانگیر ترین کی واپسی دو فون کالز سے ہوئی ہیں۔سب لوگوں کو پتہ ہے کیا ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے بھی کہہ دیا ہے کہ تجوریوں کے منہ کھول دئیے گئے ہیں۔ ۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار عمران یعقوب کو کہنا ہے کہ حکومت کو اراکین کے خریدے جانے سے زیادہ اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں اندورونی اختلافات کی وجہ سے ہمارے ووٹ اپوزیشن کے پلڑے میں نہ چلے جائیں،یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہو گا۔جہانگیر ترین کے متحرک ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اب اصل مقابلہ جہانگیر ترین اور آصف زرداری کے مابین ہو گا۔۔ جبکہ واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات کیلئے قومی اسمبلی سمیت ملک کی تمام صوبائی اسمبلیوں میں 3 مارچ کو پولنگ ہوگی۔ انتخابات کے بعد سینیٹ میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کو 28 سے 30، پیپلز پارٹی کو 19 جبکہ مسلم لیگ ن کو کل 17 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ 2 صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے علاوہ وفاق میں بھی حکومت میں ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.