نئی حکمت عملی تیار کر لی

بے روزگارنوجوانون کے لیے حکومت نے نئی حکمت عملی تیار کر لی
ہزاروں نوجوانون کو فنی تربیت کے کورسز کروا کر روزگار مہیا کیا جائے گا،رپورٹ

لاہور (28 فروری2021ء) پنجاب حکومت کا سکلنگ یوتھ فار انکم جنریشن پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ہر سال اڑھائی ارب کی لاگت سے 2500 مقامات پر پانچ لاکھ سے زائد نوجوانوں کو کورسز افر کیے جائیں گے۔پنجاب حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے بڑا پراجیکٹ شروع کرنے کا  فیصلہ کیا ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سکلنگ یوتھ فار انکم جنریشن نامی پراجیکٹ کے تحت ڈھیروں نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس پراجیکٹ کے حوالے سے پلاننگ کمیشن منظوری کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے۔پانچ سالہ منصوبہ جولائی 2021 میں شروع کیا جائے گا جو کہ جون 2026 تک جاری رہے گا۔منصوبے کے تحت سکل ٹریننگ کے شارٹ کورسز کروا کر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ پانچ سالہ منصوبے پر 12 ارب 50 کروڑ کے اخراجات کیے جائیں گے۔جبکہ سالانہ ترقیاتی بجٹ سے ہر سال منصوبے کو اڑھائی ارب کا بجٹ دیا جائیگا۔ پنجاب گروتھ سٹریٹجی کے تحت نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر اکنامک گروتھ بڑھائی جائیگی۔منصوبے کے تحت ہر سال پانچ لاکھ سے زائد نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار کے مواقع دیے جائیں گے۔نئے مالی سال 2021-22 میں 5 لاکھ 50 ہزار نوجوانوں کو ہنرمندی کے کورسز آفیر کیے جائیں گے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں 25 سو مقامات پر 600 ٹریننگ پارٹنرز کے ساتھ مل کر سکلڈ کورسسز کروائے جائیں گے۔ پرااجیکٹ کی اہمیت اپنی جگہ مگر اس پراجیکٹ کی کامیابی کے لیے اصل کام کورسز سیکھنے والے نوجوانون خو روزگار کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔اس وقت تک موجودہ حکومت کی طرف سے نوجوان اسکلڈ افراد کو بیرون ملک میں جانے کے لیے کسی بھی حکومت کے ساتھ معاہدے کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیااور نہ ہی مقامی سطح پر لوکل اور انٹرنیشنل اداروں کو ان پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ افراد کو کھپانے کے لیے کوئی ڈیل کی گئی ہے۔تو اس طرح ہزاروں نوجوانوں کو ڈپلومہ کرا کر تربیت تو دے دی جائے گی مگر انہیں باعزت روزگار کیسے ملے گا یہ اصل سوال ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.