لاکھوں درہم جرمانہ ادا کرنا پڑے گا

جعلی ڈگریوں پر یو اے ای میں نوکری کے لیے جانے والوں کو لاکھوں درہم جرمانہ ادا کرنا پڑے گا
بھاری جرمانے کے ساتھ جیل کی سزا بھی دی جا سکتی ہے،یو اے ای میں نیا قانون نافذ کر دیا گیا

یو اے ای (19 فروری2021ء) نئے قانون کے مطابق کوئی بھی شخص جو جعلی ڈگریوں کا سہارا لے کر دبئی ملازمت کی غرض سے جائے گا اسے لاکھوں درہم کا جرمانہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جیل کی ہوا بھی کھانا پڑ سکتی ہے یہی نہیں بلکہ دبئی گورنمنٹ کے اس نئے قانون کے مطابق اداروں کے مالکان اور ریکروٹمنٹ کرنے والے افراد بھی اس سزا کے مستحق قرار پائیں گے اگر یہ ثابت ہو گیا کہ انہوں نے جعلی ڈگریوں سے متعلق جانتے بوجھتے ان افراد کو ملازمت پر رکھا۔ روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانا ہر کسی کا خواب ہوتا ہے کہ وہاں زیادہ رقم کمائی جا سکتی ہے اس کے لیے لوگ طرح طرح کی مشقتیں کرتے اور جعلی اسناد حاصل کر کے بھی پہنچنے سے پیچھے نہیں رہتے۔تاہم گزشتہ دنوں دبئی نے مختلف اسکلز رکھنے والوں کو اپنے ملک میں رہنے اور کام کے مواقع مہیا کرنے کے حوالے سے بھی اعلان کیا تھا مگر اس کے فوری بعد دبئی کے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے نیا قانون پاس کیا گیا ہے جس کے مطابق ایسے افراد جو روزگار کی تلاش میں دبئی جاتے ہیں مگر اس کے لیے اپنے ساتھ جعلی ڈگریاں لے جاتے ہیں ان کے گرد قانون کا شکنجہ سخت کرتے ہوئے دو سال سزا اور لاکھوں درہم جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایف این سی کی طرف سے پاس کردہ نئے قانون کے مطابق جو لوگ جعلی ڈگریوں کا سیہارا لے کر دبئی پہنچے ہیں انہیں سخت سزاؤں کا سامنا کرنا ہو گا۔ جن لوگوں کے پاس غلطی سے یا ان کے علم میں نہیں تھا کہ ان کے کاغذات درست نہیں ہیں ان کے لیے تیس ہزار درہم جرمانہ اور تین ماہ جیل کی سزا رکھی گئی ہے جبکہ جو لوگ جانتے بوجھتے جعلی ڈگریاں لے کر آئے ہیں انہیں پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ ہونے کے ساتھ کئی سال جیل کی سزابھی دی جاسکتی ہے۔ ایف این سی کے ممبر ناصر الیماہی کے مطابق ہرکسی کو پتا ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی ترقی کر چکی ہوئی ہے اور کس طرح سے جعلی اسناد تیار کی جا رہی ہیں لہٰذا جعلی ڈگریوں کی روک تھام کے لیے نئے قانون میں سخت سزائیں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جعلی اسناد کی بنا پر نہ صرف دبئی بلکہ پوری دنیا میں ملازمتیں حاصل کرنے کا ٹرینڈ بن چکا ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.