لاپتا علی سدپارہ سے متعلق 10 دن بعد اہم خبر سامنے آگئی

لاپتا علی سدپارہ سے متعلق 10 دن بعد اہم خبر سامنے آگئی
مشہور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ جس نے وطن کا نام روشن کرنے کے لیے دنیا کی دوسری بلند ترین کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کا ارادہ کیا تھا جو اپنے مقصد میں کامیاب تو ہوا لیکن واپس نہ آسکا۔

محمد علی سدپارہ اور ان کے ہمراہ جانے والے دو غیر ملکی کوہ پیماں جان پابلو مہر اور آئس لینڈ کے جان اسنوری کے-2 کی چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران 10 روز قبل 5 فروری کو لاپتا ہوگئے تھے۔لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے مشن نے انکشاف کیا ہے کہ ایس اے آر ٹیکنالوجی کے استعمال، اسناد و اوقات کا جائزہ لینے اور سیٹیلائٹ تصاویر کا معائنہ کرنے کے بعد جو سراغ ملے تھے وہ ایک سلیپنگ بیگ، پھٹے ہوئے ٹینٹس یا سلیپنگ پیڈز نکلے اور ان میں سے کسی بھی چیز کا لاپتا کوہ پیماؤں سے تعلق نہیں تھا۔ تینوں کوہ پیماؤں کو آخری بار کے-2 کے مشکل ترین مقام بوٹل نیک پر دیکھا گیا تھا اس کے بعد گزشتہ ایک ہفتے سے موسم کی بد ترین صورتحال نے لاپتہ کوہ پیماؤں کی زمینی اور فضائی تلاش کی کوششوں کو ناکام بنا رکھا ہے۔اس ضمن میں برطانوی نژاد امریکی کوہ پیما وینیسا او برائن جو پاکستان کی خیر سگالی سفیر ہیں اور ایک ورچوئل بیس کیمپ کے ذریعے لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش اور ریسکیو مشن میں بھرپور تعاون کررہی ہیں، ان کی جانب سے اتوار کی رات ایک بیان جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ 15 فروری، پیر کے روز ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی بالخصوص یہ علی سد پارہ سے متعلق ہے جبکہ کے-2 کا ورچوئل اور بیس کیمپ بھی بند کردیا گیا ہے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.