غیر ملکی کارکنان کے لیے رہائش کا مسئلہ حل ہو گیا

مدینہ منورہ میں غیر ملکی کارکنان کے لیے رہائش کا مسئلہ حل ہو گیا
جدید رہائشی مرکز کے منصوبے کا افتتاح ہو گیا، دیگر منصوبے بھی مکمل ہونے سے لگ بھگ 25 ہزار تارکین کو رہائش گاہیں میسر آئے گی
مدینہ(۔17فروری2021ء) سعودی دعرب میں تارکین کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہے جن میں پاکستانیوں کی گنتی 25 لاکھ کے قریب ہے۔ اس لحاظ سے سعودی شہریوں کے بعد مملکت میں سب سے بڑی کمیونٹی پاکستانیوں کی ہے۔ تمام مسلمانوں کی طرح پاکستانیوں کے لیے بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مقدس ترین مقامات ہیں۔ ہر پاکستانی کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کہ ملازمت ان مقدس شہروں میں ہو تاکہ وہ حرمین شریفین میں عبادت کی زیادہ سے زیادہ سعادت حاصل کر سکے۔ تاہم ان کی اس خواہش کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ مدینہ میں رہائش گاہ کا مسئلہ ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں دوسرے شہروں میں ہی زیادہ تر قیام کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اچھی خبر سُنا دی گئی ہے۔اُردو نیوز کے مطابق مدینہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان نے مدینہ منورہ میں غیرملکی ورکرز کی رہائش کے پہلے مثالی منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔ تمام ضروری سہولتوں سے آراستہ یہ رہائشی مرکز چالیس ہزار مربع میٹر کے رقبے پر تیار کیا گیا ہے۔جہاں تین ہزار ورکرز کی رہائش کی گنجائش ہے۔اس کے علاوہ مدینہ منورہ میونسپلٹی نے الحجر شاہراہ پر ایک اور رہائشی منصوبے کا ٹھیکہ دیا ہے جو ڈھائی لاکھ مربع میٹر سے زیادہ کے رقبے پر قائم ہوگا جہاں15 ہزار غیرملکی ورکرز کو رہائش فراہم کی جاسکے گی۔مدینہ منورہ ریجن میں حی العیون اور حی الحجرہ میں غیرملکی ورکرز کی رہائش کے لیے متعدد رہائشی منصوبے مکمل کرلیے گئے ہیں۔ ینبع رائل کمیشن کی نگرانی میں ایک اور مثالی رہائشی مرکز غیرملکی ورکرز کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں پانچ ہزار کارکنوں کو رہائش دی گئی ہے۔ فیصل بن سلمان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیا منصوبہ غیرملکی ورکرز کی رہائش کے لیے فوری حل کے طور پر مکمل کیا گیا ہے۔مدینہ منورہ میونسپلٹی نے شہر میں رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مزید 25 سیکٹرز کی منظوری دی ہے۔ یہ 3 لاکھ 59 ہزار مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر بسائے جائیں گے۔ نئے سیکٹر میں 5200 مکانات تعمیر ہوں گے، دکانیں اور 144 صنعتی پلاٹس ہوں گے جبکہ 33 پارکس، 27 سکول، چالیس مساجد اور 8 سرکاری دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ مدینہ میونسپلٹی نے بیان میں کہا کہ نئے سیکٹرز وزارت بلدیات و دیہی امور کے مقرر کردہ ضوابط اور معیار کے لحاظ سے قائم ہوں گے۔ مدینہ میونسپلٹی نے بتایا کہ نئے رہائشی سیکٹرز میں ماحولیاتی و اقتصادی امور کو مدنظر رکھا جائے گا جبکہ بنیادی ڈھانچے کے لیے الگ سے پلاٹس مہیا کیے جائیں گے۔ان ہزاروں رہائشی یونٹس سے تارکین وطن کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔ مکانات میں اضافے سے انہیں کم کرایوں پر اچھی اور بہترین رہائش گاہ میسر ہو سکے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.