عمران خان کو اندھیرے میں رکھا گیا

نوازشریف کو بیرون ملک بھجوانے کے معاملے پر عمران خان کو اندھیرے میں رکھا گیا
یہ تاثر دیا گیا کہ اگر نواز شریف کو جیل میں کچھ ہو گیا تو ملک بھر میں ہنگامے ہوں گے،بینظیر بھٹو کے قت ل کے بعد جیسے بھیانک واقعات ہوں گے،عمران خان کو حقیقت معلوم ہوتی تو بہت سخت سٹینڈ لیتے۔ سینئر صحافی ہارون الرشید

لاہور (23 فروری 2021ء) : معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو بیرون ملک بھجوانے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کو اندھیرے میں رکھا گیا ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کے لیے عمران خان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔جعلی رپورٹیں بنا کر ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ نواز شریف کی جان خطرے میں ہے۔نواز شریف کو مظلوموں کا چہرہ بھی بنانا آتا ہے۔میڈیا نے بھی یہ فضا پیدا کی کہ ایک مقبول لیڈر کی جان خطرے میں ہے۔خدانخواستہ جیل میں نواز شریف کو کچھ ہو جاتا تو ملک بھر میں ہنگامے ہوتے، بینظیر کے قت ل پر کیا کچھ نہیں ہوا،یہ بھی اس سے کم بھیانک واقعہ نہ ہوتا اگر جیل میں کسی لیڈر کا انتقال ہو جاتا۔اگر عمران خان کو اس وقت تمام حقیقت معلوم ہوتی تو وہ بہت سخت سٹینڈ لیتے،آخر وہ ایک وزیراعظم ہیں، یہ ممکن نہیں کہ ان کو اعتماد میں لیے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیا جائے تاہم ماحول ایسا پیدا کیا گیا جس سے یہ تاثر گیا کہ نواز شریف کا بیرون ملک جانا بہت ضروری ہے۔خیال رہے کہ نواز شریف اس وقت لندن میں مقیم ہیں،ان کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔، سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے اپلائی نہیں کیا جبکہ علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے سابق وزیراعظم نواز شریف وطن واپسی سے بھی انکاری ہیں اور ان کے واپس آنے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آ رہا ۔ نواز شریف کو تین وجوہات کی بنیاد پر برطانیہ میں قیام کے دوران کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ ایک طبی بنیاد پر برطانیہ میں قیام کے لیے 18 ماہ کی قانونی مدت، دوسرا انحصار کا آپشن اور اگر یہ دونوں وجوہات کام نہ کریں تو بھی نواز شریف کے پاس تیسرا آپشن موجود ہے اور وہ آپشن سرمایہ کاری کا ہے۔ پارٹی کو بتایا گیا ہے کہ اگر ایک شخص کا طبی علاج ہورہا ہے تو اسے قانونی طور پر ملک میں 18 ماہ تک رہنے کی اجازت ہے، تاہم نواز شریف کے معاملے میں جو ایک ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھتے ہیں اور 10 سال کا ویزا ہے انہیں اس طرح کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جہاں تک پاسپورٹ کا معاملہ ہے تو پاسپورٹ کا معاملہ کسی ملک کے شہری اور اس کی ریاست کے مابین ہوتا ہے اور اس کیس میں یہ معاملہ نواز شریف اور پاکستان کا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.