علی سدپارہ سپانسرشپ نہ ملنے کے باوجود کے ٹو کو سر کرنے گئے

علی سدپارہ سپانسرشپ نہ ملنے کے باوجود کے ٹو کو سر کرنے گئے، سینئر صحافی کا انکشاف
علی سدپارہ جان سنوری کے ساتھی نہیں تھے، وہ انکے گائیڈ، اونچائی پر بطور پورٹر ان کیساتھ گئے کیوںکہ علی کو اس مہم کیلئے کوئی سپانسر نہیں مل سکا تھا: امل خان

سکردو ( 15 فروری 2021ء ) مایہ ناز کوہ پیما وقومی ہیرو علی سدپارہ اور ان کے 2 غیر ملکی ساتھیوں کو کے ٹو پر لاپتہ ہوئے اب 9 دن ہوگئے ہیں ،فی الحال ان کو تلاش کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں تاہم اب مختلف ذرائع کی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے کہ علی سدپارہ کو اس چڑھائی کے لیے کوئی سپانسر نہیں مل سکا تھا ۔ عرب نیوز کی ایڈیٹر امل خان کی جانب سے کیے گئے ٹویٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ’ علی سدپارہ آئس لینڈ سے تعلق رکھنے والے جان سنوری کے ساتھی نہیں تھے بلکہ وہ ان کے گائیڈ اور اونچائی پر بطور پورٹر ان کے ساتھ گئے تھے کیوں کہ علی سدپارہ کو اس مہم کے لیے کوئی سپانسر نہیں مل سکا تھا، ملک کے مشہور ترین کوہ پیما کو اپنے ہی ملک میں کوئی سپانسر نہیں ملا‘۔ یاد رہے کہ سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دو ساتھیوں کا 9 روز بعد بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش میں نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے بلکہ پاک فوج نے ریسکیو ہیلی کاپٹرز اور سی 130 جہازوں کے علاوہ ایف 16 جنگی طیاروں سے بھی دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کے علاقے کے فوٹو گرافک سروے اور سرچنگ میں مدد فراہم کی ہے۔ ان کی تلاش میں آئس لینڈ کی خلائی ایجنسی نے سٹیلائٹ کی جدید ٹیکنالوجی سے علاقے کی تصاویر بنائیں اور کئی مایہ ناز کوہ پیمائوں کی جانب سے زمینی سرچ آپریشن بھی کیا گیا لیکن علی سدپارہ اور ساتھیوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ علی سدپارہ کی فیملی اور گلگت بلتستان حکام کی طرف سے آج پریس کانفرنس کیے جانے کا امکان ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.