جنوری کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ

پاکستان کی ترسیلات زر میں گزشتہ برس جنوری کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ
پاکستان کی ترسیلات زر مسلسل آٹھویں مہینے 2 ارب امریکی ڈالرز سے زائد، جولائی تا جنوری ترسیلات زر کا حجم 16.5 ارب ڈالر رہا ، اسٹیٹ بینک نے رپورٹ جاری کردی

لاہور (15 فروری2021ء) پاکستان کی ترسیلات زر گزشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل 2 ارب امریکی ڈالر سے زائد ، صرف جولائی سے جنوری تک ترسیلات زر کا حجم 16.5 ارب ڈالر رہا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی گئی ایک ٹوئٹ میں اسٹیٹ بینک نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں گزشتہ آٹھ ماہ کی ترسیلات زر کا گراف دکھایا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ ترسیلات زر مسلسل آٹھویں مہینے 2 ارب امریکی ڈالرز سے زائد رہیں جو گزشتہ سال جنوری کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2021 میں ترسیلات زر 2.3 ارب ڈالر رہیں، جس کے بعد رواں سال جنوری میں ترسیلات سال گزشتہ جنوری 2020 کی نسبت 19 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں ۔البتہ جنوری میں ترسیلات زر دسمبر میں وصول 2.4 ارب ڈالرز کے مقابلے میں کچھ کم رہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جولائی سے جنوری تک ملک کی ترسیلات زر کا حجم 16.5 ارب ڈالر رہا جو سال گزشتہ سے 24 فیصد زائد ہے، جولائی تا جنوری ترسیلات زر کا بڑا حصہ سعودی عرب سے یعنی 4.5 ارب ڈالر رہا۔ اس عرصے میں متحدہ عرب امارات سے 3.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔برطانیہ سے 2.2 ارب اور امریکا سے 1.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کے سبب محدود سفر اور شرح مبادلہ کے لچکدار نظام کا بھی عمل دخل رہا ہے۔ اس کے علاوہ ترسیلات زر میں متواتر اضافہ بڑی حد تک بینکاری ذرائع کے بڑھتے استعمال کا عکاس ہے۔ باضابطہ ذرائع سے رقوم کی آمد کے فروغ میں حکومت اور اسٹیٹ بینک کی کوششیں شامل ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.