تین دن تک زندہ رہتا ہے

کورونا وائرس آپ کے کپڑوں پر تین دن تک زندہ رہتا ہے
لاکھوں لوگوں کی جان لینے والا موذی وائرس آج بھی سائنسدانوں کے لیے معمہ بنا ہو اہے

انگلینڈ ( ہ ہو گیا ہے اور اس وقت تک اس موذی وبا نے لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنایا جبکہ کروڑوں کو متاثر کر رکھا ہے۔اتنا عرصہ گزرنے اور مختلف ممالک میں کورونا کی دوسری اور تیسری لہر آنے اور کورونا ویکسین تیار ہونے کے باوجود بھی محققین اس بیماری سے متعلق مکمل طور پر کچھ بھی نہیں جان پائے ہیں۔تاہم ابھی ایک تحقیق سامنے آئی ہے کہ وائرس انسانوں کے کپڑوں پر تین دن تک زندہ رہ سکتاہے جس سے لوگوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 کا باعث باعث بننے والا کورونا وائرس عام استعمال ہونے والے ملبوسات میں 3 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ڈی مونٹ فورنٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں پولیسٹر، پولی کاٹن اور سو فیصد کاٹن پر کورونا وائرس کی موجودگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔نتائج سے عندیہ ملا کہ پولیسٹر میں وائرس کی کئی دن تک موجودگی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔محققین نے بتایا کہ ملبوسات کی تیاری کے لیے عام استعمال ہونے والے میٹریلز وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔تحقیق کے دوران ملبوسات میں وائرس کے ذرات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور پھر یہ دیکھا گیا کہ ہر میٹریل پر 72 گھنٹے کے دوران وائرس کس حد تک مستحکم رہتا ہے۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ پولیسٹر کی سطح یہ وائرس 3 دن کے بعد بھی موجود تھا اور اس کی دیگر اشیا میں منتقلی کی صلاحیت بھی برقرار تھی۔اس کے مقابلے میں سو فیصد کاٹن میں وائرس 24 گھنٹے تک زندہ رہا ہے جبکہ پولی کاٹن میں یہ صرف 6 گھنٹے تک زندہ رہا۔محققین نے بتایا کہ جب کورونا وائرس کی وبا کا آغاز ہوا تو ہمیں اس بارے میں بہت کم معلوم تھا کہ کوورنا وائرس کپڑوں پر کب تک زندہ رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ملبوسات کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے 3 سب سے عام میٹریلز سے طبی عملے میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میٹریلز طبی عملے کی وردیوں کے لیے عام استعمال ہوتے ہیں اور یہ لباس سے دیگر اشیا کی سطح پر بھی منتقل ہوسکتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خالص کاٹن سے وائرس کو کس طرح نکالا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.