تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا نسخہ بتادیا گیا

اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا نسخہ بتادیا گیا
اگر پی ڈی ایم حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 15 سے 20 رکن توڑنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر ان کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا اور اس کو کامیاب کرانا بھی مشکل نہیں ہوگا ، سیئر تجزیہ کار کا تبصرہ

اسلام آباد ( 14 فروری2021ء) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا نسخہ بتادیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار و صحافی عمران یعقوب خان کہتے ہیں کہ اگر سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 15 سے 20 رکن توڑنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر ان کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا اور اس کو کامیاب کرانا بھی نا ممکن نہیں رہ جائے گا ، اس کے لیے اسلام آباد سے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ الیکشن کو متحدہ اپوزیشن کے لیے ایک ٹیسٹ رن قرار دیا جارہا ہے۔ایک قومی اخبار کیلئے اپنے کالم میں سینئر تجزیہ کار نے لکھا کہ سابق صدر آصف زرداری کی طرف سے پی ڈی ایم قیادت کو کہا گیا ہے کہ ان کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بھی اقتدار سے نکالنے کا تجربہ ہے، اس لیے انہیں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور پھر اس کو کامیاب بنانے کا بھی مینڈیٹ دیا جائے ، اس سلسلے میں حالیہ دنوں میں آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے مابین ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں سابق وزیر اعظم نے نا صرف آصف زرداری کو ان ہائوس تبدیلی کے لئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا بلکہ تمام تر اقدامات میں ساتھ دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار عمران یعقوب خان کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے اس سارے عمل میں ایک پُل کا کردار ادا کیا ، جس کے بعد نواز شریف نے آصف زرداری کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عدم اعتماد کے لئے مطلوبہ نمبر اکٹھے کر لیتے ہیں تو مسلم لیگ ن ہر طرح سے ان کے ساتھ ہے۔ سینئر صحافی نے مزید لکھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے اسمبلیوں سے استعفے کی تجویز پر بھی مشروط رضا مندی ظاہر کر دی جب کہ سینیٹ الیکشن کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اس حوالے سے واضح فیصلے کر لیے جائیں گے ، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اسلام آباد کی سیٹ پر پی ڈی ایم کا مشترکہ امیدوار بنانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.