برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک اور قسم سامنے آگئی

برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک اور قسم سامنے آگئی
نئے وائرس میں ‘ممکنہ پریشان کن تبدیلیاں’ نظر آرہی ہیں، اب تک وائرس کے33کیسز سامنے آچکے ہیں، برطانوی سائنسدان

لاہور ( 16 فروری2021ء) برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آ گئی ہے ۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈنبرا یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق نئے وائرس میں ‘ممکنہ پریشان کن تبدیلیاں’ نظر آرہی ہیں اور جنوبی افریقا میں پائےگئے کورونا کی قسم سے ملتا جلتا ہے۔ کورونا وائرس کی اس نئی قسم کو سائنس دانوں نے بی ون فائیو ٹو فائیو (B.1.525) کا نام دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ دسمبر سے اب تک وائرس کے33کیسز سامنے آچکے ہیں، ایسا وائرس امریکا، نائجیریا اور ڈنمارک میں بھی مل چکا ہے۔ وائرس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں ماہرین کی تحقیق جاری ہے اور ان کا کہنا ہےکہ وائرس کے’قابل تشویش’ ہونےکے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔واضح رہے کہ برطانیہ میں اس سے قبل دو نئی کورونا اقسام دریافت ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والی دو نئی اقسام کے 76 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دو نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں ، جن میں سے ایک وائرس کی قسم میں وہی خصوصیات پائی گئی ہیں جو جنوبی افریقی اور برازیلین کورونا وائرس میں پائی گئی تھیں ۔ جبکہ دوسری قسم کا وائرس برطانوی شہر برسٹول میں پایا گیا ہے جس کو پہلی قسم کی ہی ایک اور شکل قرار دیا گیا ہے ۔برطانوی محکمہ صحت کی جانب سے قائم کردہ سائنسدانوں کے گروپ کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے جو کورونا وائرس کی قسم دریافت ہوئی تھی وہ لیورپول سے ہوئی تھی اور اس قسم کی ساخت سمجھنے کے لیے اس پر تحقیق جاری ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی اقسام میں ای 484 کے میوٹیشن سپائک پروٹین پائی گئی ہے جو کہ بالکل اسی طرح کی تبدیلی ہے جو برازیلین اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی اقسام میں تھی ۔ برطانوی محکمہ صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کورونا وائرس کی نئی اقسام کے 76 مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ دیگر مریضوں کے بھی ٹیسٹس جاری ہیں، دوسری جانب سائنسدانوں کا بھی ایک گروپ نئی اقسام پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.