آزادانہ انتخابات کی پیشن گوئی کردی

آفتاب شیرپاؤ نے ملک میں جلد نئے اور آزادانہ انتخابات کی پیشن گوئی کردی
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پرویز خٹک کو اس کے گڑھ میں ہرادیا، اوپن بیلٹ ہوں تو چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کے بھی اوپن بیلٹ ہونے چاہیے ہیں، آفتاب شیرپاؤ

مانسہرہ ( 22 فروری 2021ء) قومی وطن پارٹی کے رہنما و سینئر سیاستدان آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے ملک میں جلد نئے اور آزادانہ انتخابات کی پیشن گوئی کردی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہےکہ ملک میں بہت جلد نئے اور آزادانہ انتخابات ہوں گے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کوڈھونڈنے سے بھی امیدوار نہیں ملیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پرویز خٹک کو اس کے گڑھ میں ہرادیا، حکومت اگر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانا چاہتی ہے تو چیئرمین سینٹ اور اسپیکر کے انتخابات بھی اوپن ہونے چاہئیں۔ واضح رہے کہ حلقہ پی کے 63 نوشہرہ میں پی ٹی آئی کو بڑا اپ سیٹ ہوا جہاں مسلم لیگ ن کا امیدوار جیت گیا ، صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 63 کے ضمنی انتخاب کے تمام 102 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے اعلان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اختیار ولی نے 21 ہزار 122 ووٹ لے کر فتح حاصل کی ، جب کہ پی ٹی آئی کے میاں عمر کاکا خیل 17 ہزار 23 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں، اس حلقے میں لیگی رہنما نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو 4 ہزار 99 ووٹوں کی واضح برتری سے شکست دے دی ۔
جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی سے اختلافات کو نوشہرہ میں شکست کی وجہ قرار دیا ، نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پرویزخٹک کے بھائی سے اختلافات نوشہرہ ‏میں تحریک انصاف کی شکست کاسبب بنے ہیں ۔ جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے لیاقت خٹک سے وزارت واپس لے لی ، پی کے 63 نوشہرہ کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کے امیدوار کو سپورٹ کرنے پر لیاقت خٹک کو ہٹایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک سے وزارت واپس لینے کا فیصلہ ضمنی الیکشن میں ان کے آبائی حلقہ سے پی ٹی آئی امیدوار کی شکست کے بعد کیا گیا ،لیاقت خٹک کے پاس صوبہ خیبرپختونخواہ کی صوبائی کابینہ میں آبپاشی کی وزارت تھی جو کہ ان سے واپس لے لی گئی اور اس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.