متحدہ عرب امارات کی حکومت

”متحدہ عرب امارات کی حکومت پاکستانیوں سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کر رہی، سب پراپیگنڈہ ہے“ پاکستان سمیت 13 ممالک پر نئے ویزوں اور ورک پرمٹس پر پابندیاں لگی ہیں، تاہم پہلے سے جاری ورک پرمٹس اور ویزے کارآمد ہیں، پاکستانیوں کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی خبریں بھی غلط ہیں:اینکر پرسن کامران خان کا اظہارِ خیال

دُبئی(28 نومبر2020ء ) متحدہ عرب امارات نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان سمیت 13 ممالک کے لیے ویزوں پر پابندی کے حوالے سے اعلانات کیے گئے ہیں۔ جس کے بعد میڈیا اوردیگر عناصر کی جانب سے سچی جھوٹی خبروں کا ایک سیلاب آ گیا ہے۔ سینئر اینکر پرسن کامران خان اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ مختلف انداز سے افواہوں کا ایک بازار گرم ہو گیا ہے۔جس سے ایسا لگا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے تعلقات تتر بتر ہو گئے ہیں۔ پاکستانیوں پر پابندی لگ رہی ہے اور پاکستانی خاص طور پر اس کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ تو اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف پاکستان سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ ایران ، عراق، لیبیا، شام، یمن ، کینیا، تیونس، لیبیا، الجزائر اور صومالیہ کے شہریوں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔لیکن اس حوالے سے یہ پراپیگنڈہ کہ پاکستانیوں پر پابندی لگ گئی ہے، پاکستانیوں کو یو اے ای سے نکالا جا رہا ہے، پاکستانی اب یو اے ای میں ملازمت نہیں کر سکتے، یہ سب افواہیں بالکل غلط ہیں اور اب ان افواہوں کا طوفان بیٹھ بھی رہا ہے۔ کیونکہ سمندر پار پاکستانیز کی وزارت کی جانب سے بیان جاری ہوا ہے کہ یو اے ای کی وزارت محنت نے پاکستانیوں پر کسی بھی قسم کی ویزہ پابندی نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔دُبئی میں پاکستانی قونصلیٹ کے مطابق دُبئی امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد المری نے بتایا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے لیے وزٹ ویزہ یا پاکستانی لیبر فورس کے ورک ویزوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پاکستانی قونصل خانے کے مطابق جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یو اے ای کی کمپنیاں فی الحال نئے ورک ویزے جاری نہیں کر رہی ہیں۔ تاہم پہلے سے جاری کردہ ورک پرمٹ اور ویزے کارآمد ہیں اور ان کی توسیع و تجدید بھی ہو رہی ہے۔ پاکستانیوں کے پاس پہلے سے موجود ویزوں کی منسوخی یا تجدید نہ ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.