اوآئی سی کا مطالبہ

بھارت متن-ازع موجودہ آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے سے باز رہے، اوآئی سی کا مطالبہ ,اوآئی سی کا مسئلہ کشمیر کی مستقل حمایت کے اصولی مئوقف کا اعادہ، اوآئی سی نے اسلا-مو فو-بیا پر بھی پاکستان کی قرارداد متفقہ منظورکرلی۔ اوآئی سی وزرائے خارجہ کی کونسل نیامے کا اعلامیہ

نیامی/ اسلام آباد ( 29 نومبر2020ء) اوآئی سی نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت متنا-زع علاقے کے موجودہ آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے سے باز رہے، اوآئی سی نے مسئلہ کشمیر کی مستقل حمایت کے اصولی مئوقف کا اعادہ کیا ہے، اوآئی سی نے اسلا-مو فو-بیا پر بھی پاکستان کی قرارداد متفقہ منظور کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اوآئی سی وزرائے خارجہ کی کونسل نیامے کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت متنا-زع علاقے کے موجودہ آبادیاتی ڈھانچےکو تبدیل کرنے سے باز رہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اعلامیہ میں جموں وکشمیر تنازع سے متعلق اوآئی سی کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر پر اوآئی سی کے مئوقف کی وضاحت کی گئی۔اعلامیہ میں مسئلہ کشمیر شامل کرنا اوآئی سی کا مسئلہ کشمیرکی مستقل حمایت کا عکاس ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اوآئی سی اجلاس میں بھارت کی یک زبان سے تنبیہ کی گئی ہے۔ا-سلامو فو-بیا پر ہماری قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اوآئی سی کا اگلا اجلاس پاکستان میں ہوگا۔مزید برآں آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منظور کی جانے والی مئوثر اور جامع قرار داد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قرار داد کی منظوری اور کانفرنس کے اعلامیے میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے تفصیلی تذکرے نے مودی حکومت کی منفی خواہشات پر پانی پھیر دیا ہے۔نائیجر کے شہر نیامے میں اسلامی وزرائے خارجہ کونس کے سینتالیسویں اجلاس میں کشمیری وفد کی قیادت کرتے ہوئے شرکت کرنے کے بعد اسلام آباد پہنچنے پر اپنے ایک بیان میں صدر سردار مسعود خان نے اسلامی تعاون تنظیم اور اس کے تمام رکن ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی نے ہمیشہ تنازعہ کشمیر کو امت مسلمہ کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اورکشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور تنظیم آج بھی اپنے اس اصولی موقف پر قائم ودائم ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.