جہانگیرترین پارٹی میں نہیں ہیں

چینی اسکینڈ-ل میں جہانگیرترین سمیت جو ملوث ہوا تو سز-ا ملے گی، عمران خان, جہانگیرترین کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جہانگیرترین پارٹی میں نہیں ہیں ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں، خسروبختیار کے بھائی کیخلاف بھی تحقیقات ہورہی ہیں، اداروں میں کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو

لاہور (28 نومبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چینی انکوائری رپورٹ میں جہانگیرترین ملوث ہوا تو سز-ا ملے گی، جہانگیرترین کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جہانگیرترین کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے، خسروبختیار کے بھائی کیخلاف بھی تحقیقات ہورہی ہیں، اداروں میں کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے سینئر اینکر منصور علی خان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چینی مافیا کیخلاف پہلی بار ایکشن لیا جارہا ہے، چینی کی قیمت شوگر مافیا طے کرتا تھا، شوگر مافیا کی وجہ سے چینی کی قیمت بڑھی۔جہانگیرترین کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ جہانگیرترین کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں ہے۔ جہانگیرترین کہتے ہیں وہ بےقصور ہیں۔ جہانگیرترین ہمارے بہت قریبی رہے ہیں، ہم نے ایک ساتھ بہت کام کیا۔جہانگیرترین بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ اسی طرح خسروبختیار کے بھائی کیخلاف بھی تحقیقات ہورہی ہیں، ادارے آزاد ہیں، اداروں میں کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔شوگر انکوائری رپورٹ میں جو بھی ملوث ہوگا سزا ملے گی۔ عمران خان نے کہا کہ سابق فوج افسر کو حکومت میں پوزیشن دینے کیلئے کوئی دباؤ نہیں ہے، عاصم سلیم باجوہ کو کسی کے کہنے پر تعینات نہیں کیا، گوادر سی پیک کا مین پوائنٹ ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کو تجربے کی بنیاد پر چیئرمین سی پیک اتھارٹی لگایا، عاصم سلیم سدرن کمانڈ کے سربراہ رہ چکے،عاصم سلیم باجوہ نے آئی ایس پی آر کا ایک پورا سیٹ اپ بنایا تھا، عاصم سلیم باجوہ نے گوادر پر پوری بریفنگ دی ہے، عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگے الزامات کا مجھے تفصیلی جواب دیا، اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ نیب یا عدالت سے رجوع کرے۔انہوں نے کہا کہ فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں، ساری خارجہ پالیسی پی ٹی آئی کی ہے۔ اسلامی ممالک کے درمیان کسی تنازع میں فریق نہیں بنیں گے۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو استعفیٰ لینے اور الزامات پر وزیراعظم نے کہا کہ فردوس عاشق پر کوئی کرپشن کیس نہیں تھا، افواہیں تھیں، ان کے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ہمارے ایک دو لوگوں سے مسائل تھے، صوبوں اور میرے وزراء پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں، میں ان کیخلاف تحقیقات آئی بی کے ذریعے کرتا ہوں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.