کیا کوئی پتھر تقدیر بدل سکتا ہے

کیا کوئی پتھر تقدیر بدل سکتا ہے؟ حضورؐ نے اپنی انگلی میں عقیق کیوں پہنا تھا؟ معروف عالم دین نے پتھروں کو کس نیت سے پہننا جائز قرار دیا؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان کے پہلے مذہبی چینل کیو ٹی وی میں ناظرین کو شرعی مسائل سے آگاہی کیلئے اور ان کے شرعی مسائل کے جوابات کیلئے معلومات پروگرام میں ایک سائل نے پروگرا م کے میزبان اور عالم دین مفتی صاحب سے سوال پوچھا کہ انگلیوں میں پہننے والے پتھر اور نگینوں کی افادیت کے حوالے سے اسلام ہماری کیا رہنما ئی کرتا ہے؟ کیا یہ پتھر تقدیر بدلنے اور نفع دینے کی طاقت رکھتے ہیں؟ جس کا جواب دیتے ہوئے مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے ہاتھ کی انگلی میں عقیق پہنا ہے اور زیادہ تر یمنی عقیق استعمال کیا ہے تاہم یہ صرف زیبائش کے لیے تھا اس لیے عقیق کو محض پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پہننا چاہیے نا کہ کسی نفع کے حصول کی نیت حصول کی نیت سے پہنا جائے . مفتی صاحب نے کہا کہ عقیق ہو یا کوئی اور پتھر ہو وہ محض پتھر ہی ہیں جو نہ تو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا نقصان پہنچانے طاقت یا صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے پتھروں اور نگینوں کی نفع پہنچانے کی باتیں جیسے فلاں پتھر رزق میں فراوانی کا باعث ہوتا ہے اور فلاں سے تقدیر بدل جاتی ہے یا فلاں پتھر زیادہ فائدہ مند ہے بے بنیاد ہیں

Sharing is caring!

Comments are closed.