خروجِ وعودہ کی خلاف ورزی کرنے والے دوبارہ سعودی عرب کیسے جائیں

خروجِ وعودہ کی خلاف ورزی کرنے والے دوبارہ سعودی عرب کیسے جائیں؟پاکستانیوں کو طریقہ بتا دیا گیا

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی عرب کی جانب سے کورونا وبا کے باعث بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے ہزاروں سعودی ویزہ ہولڈر بھی سعودیہ واپسی کے بے چینی سے منتظر ہیں۔تاہم کچھ ایسے پاکستانی ہیں جو ماضی میں خروجِ وعودہ کی خلاف ورزی کر چکے ہیں جس کے باعث ان کی سعودی عرب واپسی نہیں ہو سکتی۔اُردو نیوز سے ایک پاکستانی حسن زادہ نے سوال کیا ہے کہ وہ ڈھائی برس قبل خروج عودہ پر پاکستان گیا تھا کیا وہ دوسرے ویزے پر سعودی عرب واپس جا سکتا ہے جس کے جواب میں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں اقا مے کے قوانین واضح ہیں۔اگر کوئی غیر ملکی چھٹی پر اپنے ملک جاتا ہے تو اس کیلیے لازمی ہے کہ وقت مقررہ پرواپس آئے۔خروج وعودہ یعنی ایگزٹ ری انٹری ویزے کی مقررہ مدت کے دوران واپس نہ آنے کے ایک ماہ بعد اس شخص کو جوازات کے سسٹم میں بلیک لسٹ کردیاجاتاہے۔اس خلاف ورزی کی سزا 3 برس ہے۔ اس مدت کے دوران کسی دوسرے ویزے پر سعودی عرب میں داخلہ منع ہوتا ہے۔ خروج عودہ ویزے کی خلاف ورزی کرنے والے کے لیے مقررہ مدت یعنی 3 برس ے دوران واپس آنے کا ایک ہی ذریعہ ہے وہ یہ کہ اگر سابق کفیل چاہئے تو وہ دوسرا ویزا جاری کراسکتا ہے۔ بصورت دیگر 3 سال گزرنے کے بعد بلیک لسٹ کی مدت ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ 3 برس کی مدت خروج وعودہ کی ایکسپائری تاریخ کے ایک ماہ بعد شمار کی جاتی ہے۔اسی طرح ایک اور شخص شیر بہادر نے پوچھا کہ اس کا فائنل ایگزٹ لگا تھا جس کی مُدت یعنی 60 دن گزر چکے ہیں۔تاہم ابھی تک اس کی سعودیہ سے روانگی نہیں ہو سی۔ اسے کیا کرنا ہو گا۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ فائنل ایگزٹ لگانے کے بعد جوازات کی جانب سے 60 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس دوران سفر کرنا ضروری ہوتا ہے تاہم موجودہ کورونا وائرس کی وجہ سے فضائی سفر پر پابندی ہے۔اگر آپ کا سفر موجودہ حالات کی وجہ سے ملتوی ہوا ہے تو اس دوران آپ کا فائنل ایگزٹ یعنی خروج نہائی کی مدت میں از خود توسیع ہو جائے گی تاہم آپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آپ کا خروج نہائی کب لگا تھا۔ اگرآپ واپس جانا چاہتے ہیں تو قریب ترین تاریخ کی فلائٹ بک کرائیں تاہم اگر آپ مملکت میں رہنا چاہتے ہیں تو خروج نہائی کینسل کرائیں۔خروج نہائی کینسل کرانے کے لیے اقامہ کارآمد ہونا چاہئے۔ اگر آپ کا اقامہ ایکسپائر ہوچکا ہے تو اس کا جرمانہ جو کہ پہلی بار500 ریال جبکہ دوسری بار ایکسپائر ہونے پر ایک ہزار ریال کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.