عاصم سلیم باجوہ کے معاملے کو مزید اچھالا گیا

عاصم سلیم باجوہ کا معاملہ جلد حل نہ ہونے پر چین کی دخل اندازی کا خدشہ

چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے معاملے کو مزید اچھالا گیا اور بحث کا عمل جاری رہا تو سی پیک پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، جس کے باعث معاملے کو حل کرنے کیلئے چین کو دخل اندازی کرنا پڑسکتی ہے۔ چائنہ مارننگ پوسٹ
لاہور وزیراعظم کے معاون خصوصی اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ پرپیزااسکینڈل الزامات کی بازگشت چینی میڈیا میں بھی ہونے لگی، چینی میڈیا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کا معاملہ جلد حل نہ ہوا تو چین معاملے میں دخل اندازی کرسکتا ہے۔علی بابا گروپ سے وابستہ چینی اخبار چائنہ مارننگ پوسٹ کے ٹوم حسین نے خبرشائع کی ہے کہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کیخلاف پیزاکرپشن اسکینڈل کے آنے پر چین کی دخل اندازی کا خدشہ ہے۔ اخبار نے کہا کہ اگر پاکستانی حکومت نے اس اسکینڈل پر جلد قابو پالیا تو پھر یہ معاملہ دب جائے گا۔ لیکن اگر اس معاملے کو اچھالاگیا اور بحث کا عمل جاری رہتا ہے تو پھر سی پیک پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔جس کے باعث خدشہ ہے کہ چین اس معاملے کو حل کرنے کیلئے دخل اندازی کرے۔اخبار نے مزید کہا کہ جب یہ اسکینڈل آیا تو وزیراعظم عمران خان نے امریکا میں پیزا اسکینڈل کوکو سی پیک کیخلاف انڈیا کی سازش قرار دیا۔اسی طرح حکمران جماعت نے بھی اس کو عاصم سلیم باجوہ پر محض ایک الزام کہا ہے۔ واضح رہے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے خود پر لگائے گئے الزامات مسترد کردیئے ہیں۔ انہوں نے 4 صفحات پر مشتمل تردیدی بیان میں کہا کہ میں اپنے خلاف تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے میرے اور اہلخانہ کیخلاف الزامات کی کوشش بے نقاب ہو گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ ملک کی خدمت کی اور کرتا رہوں گا۔ ٹویٹر پر جاری کردہ دستاویزات میں انہوں نے لکھا کہ میرے بھائیوں کی کمپنی کو سی پیک کے ٹھیکے دینے سے متعلق بے بنیاد الزام لگایاگیا، میرے بھائیوں کی کمپنی نے کبھی سی پیک کا کوئی ٹھیکہ نہیں لیا۔انھوں نے کہا کہ احمد نورانی نے 27 اگست کو نامعلوم ویب سائٹ پر میرے بارے میں خبر بریک کی۔ میں سختی سے اس خبر کی تردید کرتا ہوں اور غلط قرار دیتا ہوں۔ عاصم سلیم باجوہ نے مزید کہا کہ اللّٰہ کا شکر ہے میرے اور اہلخانہ کے خلاف الزامات کی کوشش بے نقاب ہوگئی۔ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ میرے بیٹے پر الزام لگایا گیا کہ اس نے سی اون بلڈرز اینڈ اسٹیٹ کمپنی بنائی۔میرے بیٹے کی کمپنی نے قیام سے اب تک کوئی کاروبار نہیں کیا۔ میرے بیٹے کی کمپنی غیر فعال ہے۔ مجھ پر الزامات میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے لگائے گئے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ میں اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹا، میرے بیٹے پر الزام لگایا گیا کہ اس کے نام ہمالیہ لمیٹڈ کمپنی رجسٹرڈ ہے۔ میرے بیٹے کے پاس ہمالیہ لمیٹڈ کمپنی کے صرف 50 فیصد شیئر ہیں۔یہ کمپنی بہت چھوٹی ہے جس نے تین سال میں 5 لاکھ روپے کمائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے میرے ایک بیٹے کے نام پر موچی کاڈ وینر کمپنی موجود ہے۔ یہ ایک چھوٹی کمپنی ہے جس نے 5 سال میں مکمل نقصان اٹھایا ہے۔ میرے ایک بیٹے پر الزام لگایا گیا اس کے نام کرپٹن مائننگ کمپنی ہے۔ عاصم باجوہ نے کہا کہ یہ کمپنی اس وقت رجسٹرڈ کی گئی جب میں بلوچستان میں تعینات تھا۔
عاصم باجوہ نے کہا کہ کسی نے نہیں دیکھا کہ یہ کمپنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں 2019 میں رجسٹرڈ ہوئی۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ میرے 2 بھائیوں کی کمپنی سلک لائن انٹرپرائزز کو سی پیک کا کوئی ٹھیکا نہیں دیا گیا۔ یہ کمپنی رحیم یار خان میں صنعتوں کو افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ میرے بیٹوں پر امریکا میں گھر خریدنے کا الزام لگایا گیا، لیکن میرے بیٹوں نے گھر بینک قرض کے ذریعے لیا ہے۔میرے بیٹوں کو گھر کی 80 فیصد رقم ابھی ادا کرنا ہے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا کہنا ہے کہ میرے بیٹوں کی عمریں 33، 32 اور 27 سال ہیں۔ میرے بیٹوں نے امریکا کی بڑی یونیورسٹیوں سے بزنس کی ڈگریاں لی ہوئی ہیں۔ انھیں امریکا میں بہت اچھی تنخواہ پر نوکریاں ملیں۔ لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ کرپٹن کمپنی نے کوئی بزنس نہیں کیا۔ میرے ایک بیٹے کے نام ایڈوانس مارکیٹنگ کمپنی کا الزام لگایا گیا، یہ کمپنی غیر فعال ہے اور اس نے کوئی کاروبار نہیں کیا۔عاصم باجوہ کا کہنا ہے کہ بیوی کے اثاثے اپنے ڈیکلیئریشن میں چھپانے کا الزام غلط ہے، ڈیکلیئریشن جمع کروانے کی تاریخ 22 جون 2020 کو میری بیوی انویسٹر نہیں رہی تھیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ میری بیوی نے یکم جون 2020 کو باہر کی تمام کمپنیوں سے انوسٹمنٹ نکال لی تھی۔ میری اہلیہ کی تقریباً 19 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری تھی۔ انھوں نے کہا کہ میرے اثاثے ڈکلیئر کرنے کے وقت میری اہلیہ کی میرے بھائی کے کسی کاروبار میں سرمایہ کاری نہیں تھی۔یکم جون 2020ء کو میری اہلیہ نے بیرون ملک تمام سرمایہ کاری ختم کردی تھی جس سے متعلق امریکا میں ریکارڈ بھی موجود ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی میں کمپنی کے نام تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا۔ امریکا میں کاروباری مفاد ختم ہونے پر دفتری کارروائی کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ میری اہلیہ نے میرے بھائی کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی جو انھوں نے میری اپنی 18 سال کی جمع پونجی سے کی، اس دوران ایک بار بھی اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ باجکو گلوبل منیجمنٹ کی پاپا جونز پیزا چین میں کوئی ملکیتی مفاد نہیں، خبر میں غلط الزام لگایاگیا کہ باجکو 99کمپنیوں کی مالک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 سال کے عرصہ میں میرے بھائیوں نے تقریباً 70 ملین ڈالر کے اثاثے اور فرنچائزز خ

Sharing is caring!

Comments are closed.