سعودی عرب اعلی عہدوں پر فائزشاہی خاندان کے دوافراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز

سعودی عرب اعلی عہدوں پر فائزشاہی خاندان کے دوافراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز

جوائنٹ فورسز کے کمانڈر شہزادہ فہد بن ترکی اور ان کے بیٹے کے خلاف کرپشن الزامات پر تحقیقات شروع کی گئیں
ریاض سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دو سینئر ترین عہدیداروں کو کرپشن کے الزام میں عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے‘سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جوائنٹ فورسز کے کمانڈر شہزادہ فہد بن ترکی اور ان کے صاحبزادے عبدالعزیز بن فہد کے خلاف کرپشن الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے. عبدالعزیز بن فہد شمالی الجوف ریجن کے ڈپٹی امیر کے عہدے پر تعینات تھے جب کہ ان کے والد شہزادہ فہد پڑوسی ملک یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے سعودی اتحادی فورسز کے کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے والے شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر مطلق بن سالم کو معزول شہزادہ فہد کی جگہ تعینات کر دیا گیا ہے. سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری فرمان کے مطابق وزارتِ دفاع کے کئی افسران اور سول ملازمین کے خلاف بھی کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے . سعودی حکومت کے مطابق اعلیٰ حکام کے خلاف حالیہ کریک ڈاﺅن کو مملکت سے کرپشن کے خاتمے کے لیے قرار دیا جا رہا ہے تاہم ناقدین بدعنوانی کے خلاف شہزادہ محمد بن سلمان کی اس مہم کو اختیارات پر قبضہ جمانے کی کوشش قرار دیتے ہیں گزشتہ ماہ بھی سیاحتی منصوبے میں کرپشن کے الزامات پر کئی افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا تھا جن میں سینئر سیکیورٹی کمانڈر بھی شامل تھے. امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے رواں برس مارچ میں 298 افراد کی گرفتاری پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمان کو ممکنہ طور پر غیر منصفانہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف مہم 2017 میں اس وقت سامنے آئی تھی جب شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت وزیروں اور کاروباری شخصیات کو دارالحکومت ریاض کے ایک لگژری ہوٹل میں قید کر دیا گیا تھا بعدازاں کئی ہفتوں کے بعد بیشتر افراد کو مالی تصفیے پر رضا مندی کے بعد رہا کر دیا گیا تھا سعودی حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے گرفتار افراد سے 400 ارب سعودی ریال سے زیادہ کی رقم برآمد کی ہے.

Sharing is caring!

Comments are closed.