بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں سمیت دیگر تارکین کو ڈی پورٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا

کویتی عوام نے مملکت میں تارکین کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

تازہ ترین سروے میں 76 فیصد عوام نے بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں سمیت دیگر تارکین کو ڈی پورٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا
کویت میں کورونا کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مملکت میں کورونا کے زیادہ تر مریضوں کا تعلق دیگر ممالک سے ہے۔کویتی عوام اور کئی مشہور شخصیات کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے کورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار تارکین کو ٹھہرا کر انہیں بُرا بھلا بھی کہا گیا۔ مملکت میں کورونا کیسز کے شکار افراد میں بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ کویت میں کورونا وائرس کے حوالے سے ایک سروے کرایا گیا جس میں عوام کی جانب سے تارکین کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔کویت یونیورسٹی کے اس سروے میں ایک ہزار سے زائد کویتی افراد پر کیے گئے سروے کے دوران 76فیصد سے زائد کویتیوں نے کہا کہ تارکین کی وجہ سے کویت میں کورونا پھیلا ہے، اس لیے انہیں مملکت سے فوری نکال دینا چاہیے۔
39 فیصد کویتی عوام کا کہنا تھا کہ کورونا کے غیر ملکی مریضوں کا سرکاری ہسپتالوں میں علاج نہ کروایا جائے۔ اس سروے سے کویتی عوام کے تارکین کے خلاف مخالفانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔کویتی مملکت میں بھارتی اور بنگلہ دیشی تارکین کے خلاف بھی پچھلے کئی ماہ سے شدید غصے کا اظہار کیا گیا کیونکہ مملکت میں زیادہ تر کورونا کیسز کا شکار انہی دو ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ کویت کی جانب سے ہزاروں بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں کو فوری طور پر واپس وطن روانہ کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مملکت میں غیر ملکیوں کی تعداد 34لاکھ کے قریب ہے جبکہ مقامی آبادی کی تعداد صرف 14 لاکھ ہے۔ کویتی حکومت کی جانب سے 6لاکھ سے زائد بھارتیوں کو بھی اگلے چند ماہ میں واپس بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر غیر ملکیوں کو بھی نکالا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مقامی اور غیر ملکی افراد کی آبادی میں توازن پیدا کرنا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.