الگ الگ پرواز کرنے سے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے

سیاست میں سب چلتا ہے! نواز شریف نے اچانک کسے فون گھما دیا، مسلم لیگ ن کے لیے یقین کرنا مشکل، بیانیہ بدلنا پڑ گیا

لاہور (نیوز ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدرشہباز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، ملاقات کے دوران قائد ن لیگ نوازشریف کی آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی بات ہوئی ہے، سیاسی قیادت نے اتفاق کیا کہ تنہا رہ کرسیاسی پرواز کرنا ممکن نہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی قیادت میں ن لیگی وفد نے گزشتہ روز بلاول ہاؤس کراچی کا دورہ کیا۔جہاں پر شہبازشریف کی قیادت میں ن لیگی وفد کا پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو ، وزیراعلیٰ سندھ نے استقبال کیا۔ اس دوران ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قائد ن لیگ نوازشریف بھی کانفرنس ویڈیو کال پر ملاقات میں شریک ہوئے۔ نوازشریف اور آصف زرداری کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔اس موقع پر سیاسی قیادت نے اتفاق کیا کہ الگ الگ پرواز کرنے سے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ حکومت کو گھر بھیجنے اور ملک وقوم کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے مشترکہ حکمت بنانا ہوگی۔ سیکرٹری جنرل حسن اقبال نے ملاقات سے متعلق بتایا کہ آج کی ملاقات میں موجودہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ملکی حالات پر معمول کی مشاورت بھی ہوئی اور دونوں جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل رہبر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور گورننس کے چیلنجز کا جواب یہی ہے کہ ہم اپوزیشن کے اشتراک عمل کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کریں اور اس حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے تمام جمہوری اور آئینی آپشنز کو بروئے کار لائیں جن سے ملک اس نقصان، تباہی اور آزمائش سے نکل سکے جو اس حکومت کی ناتجربہ کاری، نااہلی اور ناکامی سے پوری قوم کے لیے ایک عذاب بن چکی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ ملکی سیاست پراگندہ کی جا رہی ہے، ملک میں انتشار کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ملک کی خارجہ پالیسی بھی اس مقام پر پہنچا دی گئی ہے کہ آج کشمیر کے عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ایک سال گزرنے کے باوجود ہماری حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کرنا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ہمارے نزدیک انتہائی اہم مسائل ہیں اور ہم اپوزیشن جماعتوں کے پلیٹ فارم سے اصولی طور پر متفق ہیں کہ رہبر کمیٹی کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا اور رہبر کمیٹی اس کی تفصیلات طے کرے گی جس کے نتیجے میں ملکی اپوزیشن جماعتیں مل کر مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گی۔فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ کے خلاف جو میڈیا میں خبر آئِی ہے اور جو اس میں الزامات لگائے گئے ہیں، وہ انتھائی سنگین ہیں، جن کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے، مذکورہ خبر سامنے آنے کے بعد حکومت، نیب اور خود وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے، جبکہ اِس معاملے کی شروعات مشرف کے دور سے ہوئی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.