تمام خلیجی ممالک سعودیہ کے پیچھے کھڑے ہیں

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے پر شاہِ بحرین کا اہم بیان آ گیا

امریکی صدر کے داماد جیرڈ کوشنر سے ملاقات میں شاہِ بحرین نے کہا کہ خطہ خلیج میں استحکام کا انحصار سعودی عرب پر ہے
منامہ متحدہ عرب امارا ت سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد اسرائیل اب دیگرعرب ممالک بشمول سعودی عرب اور بحرین سے بھی اپنی ریاست کی حیثیت منوانا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی حکام امارات کے بعد بحرین اور سعودی عرب کے دورہ پر بھی گئے ہیں تاکہ ان دونوں ممالک کو اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے لیے قائل کیا جا سکے۔
امریکی صدر کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر جیرڈ کوشنر امریکی وفد کے ہمراہ بحرین پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ نے کہا ہے کہ خطہ خلیج میں استحکام کا انحصار سعودی عرب پر ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق انھوں نے یہ بات منگل کے روز وائٹ ہاوٴس کے مشیراور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ کوشنر 13 اگست کو یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے بعد مشرقِ اوسط کا پہلا دورہ کررہے ہیں۔ وہ سوموار کو اسرائیلی ، امریکی وفد کے ساتھ اسرائیل سے پہلی پرواز کے ذریعے ابو ظبی پہنچے تھے اور انھوں نے امارات کے حکام سے اس معاہدے کے مختلف پہلووٴں کے بارے میں بات چیت کی تھی۔انھوں نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان امن معاہدے کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب مزید عرب ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے اور وہ اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کریں گے۔لیکن بحرین کا قریبی اتحادی اور خطے کی ایک بڑی طاقت سعودی عرب یہ واضح کرچکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کی ایک قیمت ہے اور وہ عرب امن اقدام کے تحت مقبوضہ غربِ اردن اور غزہ پٹی پر مشتمل آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں ان فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ گذشتہ برسوں کے دوران میں ان میں سے بعض علاقوں اور شہروں کو صہیونی ریاست میں ضم کرچکا ہے۔ یو اے ای کے ساتھ معاہدے کے تحت اب وہ مزید فلسطینی علاقوں کو ضم نہیں کرے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.