بات وزیر اعظم کو عدالت میں طلب کیے جانے تک جا پہنچی

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، بات وزیر اعظم کو عدالت میں طلب کیے جانے تک جا پہنچی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری کی عدم بازیابی پر وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور سیکرٹری داخلہ کو عدالت میں طلب کر لیا ہے،ریمارکس دئیے کہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان بھی آئندہ سماعت پر جواب نہ دے سکے تو پھر وزیراعظم کو بلائیں گے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے شہری عبدالقدوس کی گمشدگی کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران اسٹیٹ کونسل حسنین حیدر تھہیم جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن ملک نعیم کے ہمراہ پیش ہوئے۔شہری کی عدم بازیابی پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ شہریوں کا تحفظ کرنے میں وفاقی حکومت ناکام ہو چکی ہے۔گرین نمبر پلیٹ والی گاڑیوں سے شہری اغوا ہو رہے ہیں۔اسلام آباد پولیس ناکام ہو چکی ہے تو کیا تفتیش کرنے کے لیے سندھ پولیس کو لکھیں؟ کسی پولیس والے نے کسی ایجنسی والے کے خلاف نہ لکھا نہ ہی ملزم بنایا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب کو بتا دیں آنکھیں بند کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔عدالت نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔کہا کہ اگر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان بھی آئندہ سماعت پر جواب نہ دے سکے تو پھر وزیراعظم کو بلائیں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔دوسری جانب آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمارہ ریاض قاضی کی بیٹے محمد ابرہیم کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پروزارت داخلہ، پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کی جانب سے رپورٹ جمع کر ادی گئی ۔پیر کو جسٹس عامر فاروق نے بیٹے کی بازیابی کیلئے ماں کی درخواست پر سماعت کی۔ وزارت داخلہ، پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی ،وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت تنے منسٹری آف ڈیفنس کو اگلی سماعت پر مکمل جواب جمع کرنے کی ہدایت کی۔ نمائندہ وزارت دفاع نے کہاکہ لاپتہ محمد ابرہیم ہمارے پاس نہیں ہے۔ایم آئی اور پولیس نے لاپتہ شہری بارے لاعلمی کا اظہار کیا ۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.