اگلے چھ ماہ میں لاکھوں تارکین کو واپس بھیج دیا جائے گا

کویت میں نئی ویزہ پالیسی کا اعلان کر دیا گیا

بہت سی اقسام کے ویزوں پر پابندی عائد، اگلے چھ ماہ میں لاکھوں تارکین کو واپس بھیج دیا جائے گا
کویت کی قومی اسمبلی نے تارکینِ وطن کی تعداد کو محدود کرنے کے لیے ایک مسودہ قانون تیار کرلیا ہے۔اس کے تحت ویزے کی بعض اقسام کی منتقلی پر بھی پابندی عاید کردی جائے گی۔العربیہ نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق نئے قانون کے نفاذ کے چھے ماہ کے اندر کویت میں تارکینِ وطن کی زیادہ سے زیادہ تعداد کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں مقامی آبادی سے تارکین وطن ورکروں کی تعداد کا موازنہ کیا جائے گا۔نئے بل کے تحت دس مختلف زمروں میں کام کرنے والے ورکروں کو کوٹا سسٹم سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔ان میں گھروں میں کام کرنے والے معاونین (نوکر) ،طبی عملہ ، معلمین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے شہری شامل ہیں۔نئے مجوزہ قانون کے تحت ویزوں کی بعض قسموں اور ان کے اجراء کے موجودہ طریق کار پر بھی پابندی عاید کردی جائے گی. وزٹ ویزوں کی کام کے ویزوں میں منتقلی پر پابندی ہوگی۔اسی طرح گھروں میں کام کرنے والے نوکروں کے ویزوں کو پرائیویٹ یا تیل کے شعبوں میں کام کرنے کے ویزوں میں تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔نئے قانون کے تحت کویت کی آبادی کے انتظام وانصرام سے متعلق ایک نئی قومی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔واضح رہے کہ کویتی حکام اس وقت ملک میں غیرملکی تارکین وطن کی تعداد میں کمی کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔ گذشتہ ہفتے کویت نے ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے تارکین وطن کو کام کے لیے اقامے جاری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ یونیورسٹی کی کوئی ڈگری نہ رکھنے والوں کو 31 اگست کے بعد اقامہ یا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔کویت سے تین لاکھ 60 ہزار تارکِ وطن مزدوروں کو ان کے آبائی ممالک میں بھیجنے کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں کویتی حکومت اور قومی اسمبلی دونوں متفقہ طور پرطویل المیعاد اور قلیل المیعاد اقدامات پر غور کررہے ہیں۔
کویت ٹائمز نے قبل ازیں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ حکومت ملک سے ایک لاکھ 20 ہزار غیر قانونی غیرملکی ورکروں اور 60 سال سے زاید عمر کے تارکینِ وطن کو بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ان میں ملازمین ،دوسروں کے زیرکفالت افراد اور دائمی امراض کا شکار مریض شامل ہیں۔حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق کویت کی آبادی میں 2005ء سے 2019ء کے درمیان 55 فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ 13 لاکھ 30 ہزار نفوس بنتے ہیں۔اس عرصے کے دوران میں تارکین وطن کی آبادی میں 130 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد30 لاکھ 80 ہزار ہوگئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.