اسرائیل امارات امن معاہدے کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے

اسرائیل امارات امن معاہدے کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے
اسرائیلی کاروباری شخصیات اور کمپنیوں نے امارات میں پراپرٹی کے کاروبار پر قابض ہونے کی تیاریاں شروع کر دیں

دُبئی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، سفارتی اور طبی میدانوں میں بھر پور تعاون شروع ہو چکا ہے۔ متحدہ عرب امارا ت کی ریئل اسٹیٹ کی مارکیٹ دُنیا بھر میں اپنا مقام اور شہرت رکھتی ہے۔ دُنیا بھر کے سرمایہ کار امارات میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں اربوں درہم کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ اب اسرائیلی ریئل اسٹیٹ سے جُڑی کمپنیوں اور افراد نے بھی امارات کی پراپرٹی کی مارکیٹ میں داخل ہونے کاارادہ بنا لیا ہے تاکہ امارات میں اپنی کاروباری جڑوں کو مضبوط بنا کر زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جائے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق اسرائیل کے شہرتل ابیب کی ایک بڑی ریئل اسٹیٹ کمپنی بیو چیمپ اسٹیٹس کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر میتھیو بارٹنک نے بتایا کہ اسرائیلی سرمایہ کارامارات میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں داخل ہونے کے لیے بے چین ہیں۔ ان سے پچھلے دو ہفتوں کے دوران 50 سے زائد اسرائیلی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں نے امارات میں پراپرٹی کا کاروبار کرنے کے سلسلے میں رابطہ کر کے معلومات لی ہیں۔ جبکہ وہ خود بھی کئی ڈویلپرز سے میٹنگ کر چکے ہیں۔ اسرائیلی سرمایہ کار اس وقت امارات اسرائیل سفارتی معاہدے کی دیگر تفصیلات طے پا جانے کا انتظار ہے۔بیوہ چیمپ ایک بین الاقومی شہرت کی حامل کمپنی ہے جس کے برطانیہ، امریکا، فرانس اور یونان میں بھی کاروبار ہیں۔ یہ کمپنی اسرائیل میں نئے و پُرانے گھروں کی فروخت اور کرائے داری کے معاملات طے کروانے میں سب سے آگے ہے۔بارٹنک کا کہنا تھا کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعددونوں کے درمیان کاروبار کا حجم بھی بہت زیادہ بڑھے گا۔ امارات میں ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی کامیابی کی وجہ سے اسرائیلی سرمایہ کاربھی اس شعبے میں خاصی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امارات میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ افرادکا کہنا ہے کہ امارات میں بھی بہت سے افراد اسرائیل کے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بارٹنک کا کہنا تھا کہ 20 اماراتی سرمایہ کاروں نے بھی اسرائیلی پراپرٹی مارکیٹ میں کاروبار کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.