ہم سے غلطی ہو گئی ، برطانیہ نے سعودی عرب سے معذرت کر لی

برطانیہ نے پہلے سعودی عرب پر پابندیاں لگائیں پھر خفیہ معذرت مانگ لی
برطانوی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے پر سعودی عرب کو کھلےعام تنقید اور پابندیاں عائد کرنے کے بعد اگلے ہی روز خفیہ طور پر سعودی حکومت سے ‘خفیہ معذرت’ کرلی

لندن/ ریاض برطانیہ نے پہلے سعودی عرب پر پابندیاں لگائیں پھر خفیہ معذرت مانگ لی، برطانوی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے پر سعودی عرب کو کھلےعام تنقید اور پابندیاں عائد کرنے کے بعد اگلے ہی روز خفیہ طور پر سعودی حکومت سے ‘خفیہ معذرت’ کرلی۔ برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے پر سعودی عرب کو کھلےعام تنقید اور پابندیاں عائد کرنے کے بعد اگلے ہی روز خفیہ طور پر سعودی حکومت کی تعریف کی ہے۔ اخبار کے مطابق برطانوی حکومت نے پیر کو کچھ سعودی شہریوں کو نئے ’میگنٹسکی ایکٹ‘ کے تحت وزیر خارجہ کی ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد سعودی حکومت کو ’معذرت’ پر مبنی فون کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ بین ویلیس نے اپنے سعودی ہم منصب کو بدھ کو ٹیلی فون کر کے سعودی حکومت کے لیے برطانوی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ اس فون کال کے حوالے سے برطانوی حکومت نے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ نائب وزیر دفاع جناب خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کو اپنے برطانوی ہم منصب وزیر دفاع بین ویلیس کی کال موصول ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر گفتگو ہوئی ہے۔
خاص طور پر دفاعی شعبے سے متعلق اور عالمی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے دونوں ممالک کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور خطرات سے نمٹنے کے لیے سعودی کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اپنی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں دوست ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں مضبوطی کا اعادہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ فون کال ایک ایسے وقت میں کی گئی جب عالمی سیکرٹری تجارت لز ٹروس نے سعودی عرب پر عائد برطانوی دفاعی سامان کی پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.