سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کفالت کیسے تبدیل کروا سکتے ہیں؟ انتہائی اہم معلومات جانئیے

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی گھریلو ملازمیں کفالت کیسے تبدیل کروا سکتے ہیں؟

گھریلو ملازمین سے متعلق کیسز جوازات کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، وزارت محنت ان معالات میں مداخلت نہیں کرتی
ریاض سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں، جن میں ڈرائیور، خانساماں، مالی اور دیگر ملازمتیں شامل ہیں۔ ان گھریلو ملازمین کو اکثر کفیلوں سے شکایت ہوتی ہے اور وہ اپنا کفیل تبدیل کروانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے اہم وضاحت سامنے آ گئی ہے۔ اُردو نیوز کے مطابق گھریلو ملازمین کے اقاموں کی تجدید اور دیگر معاملات کیونکہ براہ راست محکمہ پاسپورٹ کے زیر نگرانی آتے ہیں اس لیے انکے قوانین بھی قدرے مختلف ہیں۔ ایک قاری کی جانب سے سوال کیا گیا ’ میں ایک ہاوس ڈرائیور ہوں اورمیرا اقامہ بھی کئی ماہ سے تجدید نہیں ہوا کیا میں بغیر کفیل کی منظوری کے دوسری جگہ کفالت تبدیل کراسکتا ہوں‘۔
اس کے جواب میں بتایا گیا کہ گھریلو ملازمین کے امور براہ راست جوازات کی زیرنگرانی ہوتے ہیں اس لیے ان پر لیبر آفس کے قوانین لاگو نہیں ہوتے ہیں۔انفرادی کفالت کے ملازمین کے لیے کفالت تبدیلی کے معاملات جوازات میں مکمل کیے جاتے ہیں۔ جہاں تک معاملہ ہے کہ کفیل کی مرضی کے بغیر کفالت کی تبدیلی کیسے ہو سکتی ہے تو اس حوالے سے جوازات کے ذمہ دار سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر کارکن کو تنخواہ اور واجبات ادا نہیں کیے جاتے تو اس صورت میں وہ باقاعدہ لیبر کورٹ میں شکایت درج کراسکتا ہے جہاں فوری طور پر اس کی شکایت پر عمل کیاجائے گا تاہم کفالت کی تبدیلی اس لیے کفیل کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں وزارت افرادی قوت کے قوانین کا عمل نہیں جبکہ جوازات کے قانون کے مطابق گھریلو ملازمین کیلیے کفالت کی تبدیلی کیلیے ضروری ہے کہ سابق کفیل کی جانب سے این او سی حاصل کیا جائے جس کے بعد ہی کفالت تبدیل کرائی جاسکتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.