سعودی عرب میں مقیم پاکستانی خبردار ہو جائیں، معاملہ عدالت تک جائے گا

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی خبردار ہو جائیں

کسی بھی مقامی یا غیر مُلکی پر ٹریفک جرمانوں کی رقم 20 ہزار ریال تک پہنچنے کی صورت میں اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا
سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن اور مقامی افراد کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر کسی کسی بھی مقامی یا غیر مُلکی پر ٹریفک جرمانوں کی رقم 20 ہزار ریال تک پہنچ گئی تو عدم ادائیگی کی صورت میں اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں محکمہ ٹریفک نے جرمانے 20 ہزار ریال تک پہنچنے پر انتباہ نظر انداز کرنے والوں کو عدالت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی محکمہ ٹریفک نے کہا ہے کہ اگر کسی سعودی شہری یا مقیم غیرملکی پر ٹریفک جرمانوں کی مجموعی رقم 20 ہزار ریال تک پہنچ گئی اور اس نے ادائیگی کے نوٹس نظر انداز کر دیے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ محکمہ ٹریفک نے بیان میں کہا کہ ’20 ہزار ریال تک جرمانے والے ڈرائیور کو نہ صرف یہ کہ عدالت میں حاضر کیا جائے گا بلکہ اس کی ٹریفک خدمات بھی معطل کردی جائیں گی۔
اْس شخص کو کہا جائے گا کہ اگر اس نے 30 دن کے اندر جرمانے جمع نہ کروائے تو کیس ٹریفک عدالت میں بھیج دیا جائے گا اور جرمانے ادا نہ کرنے تک اسے ٹریفک خدمات سے محروم کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ مملکت میں نجی عمرہ کمپنیوں کی بسوں کے لیے نئے ٹریفک قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ نجی عمرہ کمپنیوں کے بس ڈرائیورز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ بس چلاتے وقت سارا دھیان ڈرائیونگ پر رکھیں۔ اگر کوئی ڈرائیور چلتی بس میں موبائل فون استعمال کرتے پایا گیا تو اس پر دو ہزار ریال کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ کسی بھی ڈرائیور کو بس کے اندر سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں ہوگی، اور نہ ہی وہ کسی مسافر کو ایسا کرنے کی اجازت دے گا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں ڈرائیور کو پانچ سو ریال کا جرمانہ بھرنا پڑے گا۔ دوران سفر اگر کسی بس کے دروازے ٹھیک طرح سے بند نہ پائے گئے تو اس غفلت کی صورت میں ڈرائیور پر دو ہزار ریال کا چالان عائد کیا جائے گا۔ بس میں سیٹوں کے درمیانی راستہ میں مسافروں کا اضافی سامان رکھوانے پر ڈرائیور کو ایک ہزار ریال جرمانے کا صدمہ سہنا پڑے گا۔اسی طرح بس کے اندر مسافروں کے لیے نقصان دہ مواد یا سامان رکھوانے پر بھی ڈرائیورز کو دو ہزار ریال کا جرمانہ ہو گا۔ اسی طرح مسافروں کا بھاری سامان بس کے مخصوص کمپارٹمنٹ میں ہی رکھوایا جائے گا۔ خلاف ورزی پر دو ہزار ریال کا جرمانہ بھرنا ہو گا۔ محکمہ ٹریفک نے پابند کیا ہے کہ ڈرائیورز ذہنی و جسمانی معذور افراد کو بس میں سوار ہونے میں مدد فراہم کریں گے اور ان کا دورانِ سفر دھیان بھی رکھیں گے، ورنہ ان پر 500ریال کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔نجی عمرہ کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عمرہ اور حج زائرین کو معیاری بسیں فراہم کریں گی۔عمرہ کمپنیوں کو بسیں کرائے پر فراہم کرنے والی کمپنیوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ وزارت حج کی متعلقہ کمیٹی کی جانب سے بس کا این او سی جاری ہونے تک اسے کرائے پر فراہم نہیں کریں گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں پانچ ہزار ریال فی بس کے حساب سے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔این او سی کی پابندی ماضی میں عمرہ اور حج زائرین کو ناقص اور غیر معیاری بسوں کے سفر کے دوران جان لیوا حادثات کی روک تھام کی خاطر لگائی گئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.