چین نے پاکستانی عوام کو 9 کروڑ این 95 ماسک دینے کا فیصلہ کرلیا

چین نے پاکستانی عوام کو 9 کروڑ این 95 ماسک دینے کا فیصلہ کرلیا
یہ ماسک حکومت پاکستان کو نہیں دیے جائیں گے، بلکہ فلاحی ادارے اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے پاکستانی عوام کو دیے جائیں گے

لاہور چین نے پاکستانی عوام کو 9 کروڑ این 95 ماسک دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، یہ ماسک حکومت پاکستان کو نہیں دیے جائیں گے، بلکہ فلاحی ادارے اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے پاکستانی عوام کو دیے جائیں گے۔ سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ چین سے 9 کروڑ این 95 ماسک پاکستان پہنچنے والے ہیں۔ یہ ماسک حکومت پاکستان کو نہیں دیے جائیں گے بلکہ اخوت فاؤنڈیشن کو دیے جائیں گے۔
اس فلاحی ادارے پر تمام پاکستانیوں کو بھروسہ ہے۔ یہ ماسک کب آئیں گے ابھی کوئی تاریخ نہیں بتاسکتا۔ لیکن ماسک دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ 18لاکھ خاندانوں کو جس طرح پہننے کیلئے کپڑے دیے، 60 لاکھ خاندانوں کو قرضے دیے اس لیے ان کے پاس ڈیٹا موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی خبر یہ ہے کہ جس کی تمام سرکاری ذرائع اور حکام تصدیق کررہے ہیں، اگرچہ اس خبر کا فی الحال اعلان نہیں کیا جائے گا۔
فروری 2021ء میں کورونا وائرس کی ویکسین آجائے گی۔ فروری میں ابھی سات مہینے باقی ہیں۔ لیکن اس کی خوشی میں یہ کام نہ کرنا کہ ماسک پہننا ہی چھوڑ دیں۔ عید قربان میں گلے ملتے رہیں، مساجد میں ہجوم ہوجائے، مساجد میں ضرور جائیں، لیکن احتیاط کو برقرار رکھیں۔ پاکستان بہت وسیع وعریض ملک ہے، بڑے بڑے میدان ہیں، کھلی جگہوں پر عید قربان کے اجتماعات رکھے جائیں۔
انشاء اللہ فروری میں ویکسین آجائے گی۔ لیکن اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تو دسمبر کے آخر یا پھر جنوری میں کیا جائے گا۔ ویکسین کے تجربات کے تیسرے مرحلے میں پاکستان شریک ہے۔ پہلے دو مرحلے انہوں نے خود مکمل کیے اب تیسرے مرحلے میں پاکستان بھی شریک ہے۔اس عمل کو وہ مکمل کریں گے جس میں ویکسین کے سائیڈافیکٹ کی آزمائش کی جا رہی ہے۔ اگر ایک فیصد کو بھی سائیڈ افیکٹ ہوئے تو ناکامی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین میں کچھ نقائص نکل آئے ہیں، اس لیے آکسفورڈ نے نئے سرے سے تحقیق کا آغاز کردیا ہے۔ سائنسدان کوئی سیاسی لیڈران کی طرح نہیں ہوتے انہوں نے حتمی نتیجہ اخذ کرکے بتانا ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.