جنس بدل کر آپس میں شادی کرنے والا جوڑا پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا

جنس بدل کر آپس میں شادی کرنے والا جوڑا پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا
لڑکی نے لڑکا بن کر دوست سے شادی تو رچا لی،معاملہ عدالت پہنچا تو جوڑا راتوں رات غائب ہوگیا

راولپنڈی جنس بدل کر آپس میں شادی کرنے والا جوڑا پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چند دن قبل عاصمہ بی بی نے نیہا نامی لڑکی سے کورٹ میرج کی تھی۔جنس بدل کر شادی کرنے والی سہلیاں راتوں رات فرار ہوں گئیں جن کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی کہ وہ کدھر ہیں۔عاصمہ بی بی نے شادی کے لیے اپنا شناختی کارڈ تبدیل کروا کر نام آکاش رکھا تھا۔ دونوں لڑکیوں نے عدالت میں پیش ہوکر کورٹ میرج کی۔نہہا علی کے والد کی درخواست پر عدالت نے تمام فریقین کو طلب کر رکھا ہے ہے۔لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے دونوں لڑکیوں اور ایس ایچ او ٹیکسلا کو 15جولائی کو طلب کیا ہے۔لڑکی نے لڑکا بن کر دوست سے شادی تو رچا لی تاہم معاملہ عدالت میں پہنچا تو جوڑا راتوں رات غائب ہوگیا۔
دونوں لڑکیوں کا تعلق راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا سے ہے۔
قبل ازیں بتایا گیا کہ عاصمہ بی بی نامی لڑکی کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنا نام و جنس تبدیل کر کے نیا نام آکاش رکھ لیا ہے۔ اس حوالے سے شادی کرنے والی دونوں لڑکیوں نے عدالت میں پیش ہو کر دستاویزات بھی پیش کی ہیں۔ عاصمہ بی نی نے عدالت میں اپنے لڑکے ہونے سے متعلق دعوے کی دستاویزات جمع کروائی ہیں۔ عاصمہ بی بی نے عدالت کو بتایا ہے کہ پہلے اس نے اپنی جنس تبدیل کروائی اور پھر بعد میں نادرا سے باقاعدہ اپنا شناختی کارڈ بھی تبدیل کروایا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی کے کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ نمبر 10 میں دونوں لڑکیوں کے نکاح نامے کا اندراج ہوا ہے۔ تاہم اس تمام واقعے کے بعد نیہا کے والد نے ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں رٹ دائر کر دی ۔ نیہا بی بی کا والد عاصمہ بی بی کا دعویٰ ماننے سے انکار ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ عاصمہ بی بی کے مطابق اس نے اپنی جنس تبدیل کروائی ہے۔جب کہ پاکستان میں جنس کی تبدیلی ناممکن ہے۔اور غیر شرعی بھی ہے۔ اس کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کیلئے منظور کرلی گئی ۔ عدالت نے شادی کرنے والی دونوں لڑکیوں کو 15 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.